بھوپال:07؍جون:پانی ہی زندگی ہے اور اس زندگی بخش نعمت کو محفوظ رکھنے کی سمت میں مدھیہ پردیش اب پوری دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بنتا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی دور اندیش رہنمائی اور وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے اختراعی اقدام کے تحت ریاست میں شروع کیا گیا “جل گنگا سنوردھن ابھیان” اب صرف ایک سرکاری کوشش نہیں رہا بلکہ عوامی شراکت داری پر مبنی ایک مضبوط عوامی تحریک بن چکا ہے۔ دریاؤں، تالابوں اور روایتی آبی ذرائع کی بحالی کے لیے کی جانے والی اس عظیم کوشش کو اب بین الاقوامی سطح پر بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ بھوپال کے تاریخی بھارت بھون میں منعقدہ سدانیرا سماگم” نے آبی تحفظ کو ہماری عظیم ثقافتی وراثت کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اس شاندار پروگرام میں قبرص، فجی، میکسیکو، نیپال، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور ایکواڈور کے سفارت کاروں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ آبی انتظام کے اس “مدھیہ پردیش ماڈل” کو موجودہ دور کی سب سے بڑی عالمی ضرورت قرار دیتے ہوئے اسے اپنے ممالک میں بھی نافذ کرنے کی بھرپور خواہش ظاہر کی۔ آبی خود کفالت کی جانب بڑھتے ہوئے ریاست کے یہ اقدامات عالمی منظرنامے پر ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
قبرص اور فجی نے “مدھیہ پردیش ماڈل” کو سراہا
اس سات روزہ بین الاقوامی پروگرام میں قبرص کے ہائی کمشنر مسٹر ایواگورس ورائیونائیڈیس نے کہا کہ آبی بحران ایک سنگین عالمی چیلنج ہے اور اس کے حل کے لیے عوامی بیداری پیدا کرنا نہایت اہم اقدام ہے۔ انہوں نے ویر بھارت نیاس کے ساتھ مکالمے کو مفید قرار دیتے ہوئے بتایا کہ قبرص کا ثقافتی وفد 20 اور 21 جون 2026 کو بھوپال میں اپنی پیشکشیں دے گا۔ دوسری جانب جمہوریہ فجی کے ہائی کمشنر مسٹر جگن ناتھ سامی نے موسمیاتی تبدیلی کو شدید تشویش کا موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور فجی کے تعلقات 1948 سے انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے اس دور اندیش اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک جغرافیائی طور پر دور ہیں، لیکن ماحولیات اور انسانی زندگی کے تحفظ جیسے ہمارے مقاصد مکمل طور پر یکساں ہیں۔
میکسیکو اور نیپال نے آبی تحفظ کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیا
میکسیکو سفارت خانے کی ثقافتی سربراہ محترمہ ونیسا ایڈریان نے آبی تحفظ کو ایک مشترکہ عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی اور دریاؤں کو ثقافتی وراثت سے جوڑنا ایک نہایت قابلِ ستائش قدم ہے۔ انہوں نے بھارت اور میکسیکو کو قدیم تہذیبوں کا وارث قرار دیتے ہوئے باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ حل تیار کرنے پر زور دیا۔ اسی طرح نیپال سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری مسٹر دیپک پورکھیرے نے کہا کہ یہ پروگرام ہمیں فطرت کے تئیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے ٹرائبل میوزیم کے دورے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ثقافتی روایات، طرزِ زندگی اور سماجی اقدار میں اتنی گہری مماثلت ہے کہ بھارت آ کر انہیں اپنے ہی گاؤں جیسا اپنائیت بھرا احساس ہوا۔
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور ایکواڈور اس اختراعی اقدام کو اپنائیں گے
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کے ہائی کمشنر مسٹر چندر دت سنگھ نے اس پروگرام کو ماحولیاتی مسائل کو ثقافتی اظہار کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی ایک بہترین کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری کا ایک مضبوط پیغام دیتا ہے۔ دوسری طرف ایکواڈور کے ڈپٹی چیف آف مشن مسٹر جارج وینیشیو انرانگو نے مدھیہ پردیش حکومت اور ویر بھارت نیاس کی کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ مدھیہ پردیش کے اس حوصلہ افزا اقدام سے سبق لیتے ہوئے وہ جلد ہی ایکواڈور میں آبی تحفظ کے لیے وقف “سدانیرا سنگم” کا انعقاد کریں گے۔
آبی خود کفالت کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے مدھیہ پردیش
ایشیا، یورپ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور کیریبین ممالک سے آئے ہوئے سفارت کاروں نے نہ صرف اس سماگم میں شرکت کی بلکہ عوامی شراکت داری پر مبنی جل گنگا سنوردھن ابھیان” کی نئی اختراعات کو بھی گہری دلچسپی سے سمجھا۔ مدھیہ پردیش حکومت آبی خود کفالت کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ ریاست میں اب تک 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد آبی ڈھانچوں کا کام مکمل کیا جا چکا ہے اور حکومت کا ہدف اسے 3 لاکھ 66 ہزار تک پہنچانا ہے۔ اس مہم کو جس طرح بین الاقوامی سطح پر پذیرائی اور قبولیت حاصل ہو رہی ہے، وہ ریاست کے لیے کسی عالمی اعزاز سے کم نہیں۔ سرحدوں سے آگے بڑھ کر یہ “مدھیہ پردیش ماڈل” اب پوری عالمی برادری کے لیے تحریک کا ایک بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔









