نئی دہلی22جولائی: دہلی کانگریس کے سینئر رہنما اور ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کی جانب سے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف دیے گئے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کی سیاسی لڑائی بی جے پی سے ہے یا راہل گاندھی اور کانگریس سے۔ ڈاکٹر نریش کمار نے اپنے بیان میں کہا کہ سنجے سنگھ کے ریمارکس سیاسی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں اور اس طرح کے بیانات سے صرف بی جے پی کے سیاسی بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانا اس وقت سمجھ سے بالاتر ہے، جب ملک میں جمہوریت، آئین اور عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے رہنما بی جے پی کو جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے راہل گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ان کے سیاسی عزائم اور ترجیحات پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کو حکومت سے جواب طلب کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرنے چاہئیں۔ ڈاکٹر نریش کمار نے ہندی کی ایک معروف کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ” جن کے اپنے دامن میں بے شمار خامیاں ہوں، انہیں دوسروں کو نصیحت کرنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہوتا۔” انہوں نے کہا کہ عوام یہ بخوبی دیکھ رہی ہے کہ کون سی سیاسی جماعتیں بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف کھڑی ہیں اور کون اپوزیشن کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کانگریس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کی تحریک سے لے کر آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ تک کانگریس کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ کانگریس آئین، جمہوریت اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ڈاکٹر نریش کمار نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائیاں اور راہل گاندھی کو نشانہ بنانا ایک ہی غیر جمہوری سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ دہلی پولیس کے مبینہ نامناسب رویے نے بھی جمہوری اقدار پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔









