ممبئی 6جون: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے ہفتہ (6 جون) کو کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کریں گی، جس میں ان انتخابات میں مزید شفافیت لانے کا مطالبہ کیا جائے گا جہاں خرید و فروخت کے الزامات لگتے ہیں۔ ان کا یہ بیان مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے انتخابات سے قبل امیدواروں کو لالچ دینے اور دباؤ ڈالنے کے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ سپریا سولے نے کہا کہ یا تو موجودہ شکل میں ایسے انتخابات بند کر دیے جانے چاہئیں یا پھر ان میں ’اوپن ووٹنگ‘ کا نظام نافذ کیا جانا چاہئے۔ ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں انتخابی عمل میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کروں گی۔ انتخابات میں خرید و فروخت کے الزامات بند ہونے چاہئیں۔ سرپنچ سے لے کر لوک سبھا تک تمام انتخابات شفاف ہونے چاہئیں۔‘‘ واضح رہے کہ 18 جون کو ہونے والے قانون ساز کونسل کی 16 سیٹوں کے انتخاب سے قبل مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے کچھ امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے تھے۔ سپريا سولے نے اس فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمام اتحادی جماعتوں کے لیڈران سے بات چیت کے بعد یہ فیصلہ اجتماعی طور پر لیا گیا تھا۔ خرید و فروخت کے خدشات کو لے کر بڑے پیمانے پر تشویش پائی جا رہی تھی۔ ہر جگہ خرید و فروخت کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’’اس فیصلے سے قبل ہوئی میٹنگوں میں این سی پی (شرد پوار)، کانگریس اور شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے رہنما موجود تھے۔‘‘ امیدواروں کے نام واپس لینے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں سپریا سولے نے کہا کہ ’’ہر علاقے کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔
‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی پارٹیوں کو خرید و فروخت کی سیاست کی اجازت دی جانی چاہیے؟ انتخابی اصلاحات کے اپنے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بارامتی سے رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ ’’ایک شہری اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے میں یہ بل پیش کروں گی۔ ایسے انتخابات میں خرید و فروخت کے الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور سیاسی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انتخابی نظام میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔









