رامپور22جولائی: جماعت اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منگل کے روز رامپور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دورہ کرکے یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد نے یونیورسٹی کی متعدد عمارتوں کو منہدم کیے جانے سے متعلق جاری احکامات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے اتر پردیش کی گورنر کے نام ایک مکتوب پیش کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں کسی بھی قسم کی بلڈوزر یا انہدامی کارروائی کو فوری طور پر روکا جائے اور وہاں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ تنظیم کے مطابق یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن پر عمل درآمد کے لیے 30 جولائی کی آخری تاریخ مقرر ہے۔
جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی کی گئی تو نہ صرف ادارے کا وجود شدید متاثر ہوگا بلکہ تقریباً 3 ہزار طلبہ کی تعلیم بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں ایسے طلبہ زیر تعلیم ہیں جو معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں متعدد طلبہ کو فیس میں رعایت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے میں وسیع پیمانے پر عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ ان طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کے حقِ تعلیم اور تعلیمی ادارے کی آئینی حیثیت کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات میں ایسے فیصلے کیے جانے چاہئیں جن سے طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ وفد نے اپنے مکتوب میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ معاملے کو متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انہدامی احکامات کی قانونی حیثیت اور یونیورسٹی کی جانب سے اٹھائے گئے دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراضات کا عدالتی طریقۂ کار کے تحت جائزہ لیا جا سکے۔ تنظیم نے کہا کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کسی بھی قسم کی انہدامی کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
جماعت اسلامی ہند نے حکومت کو یہ تجویز بھی پیش کی کہ اگر عمارتوں سے متعلق کوئی قانونی یا انتظامی مسائل موجود ہیں تو انہیں انہدام کے بجائے ریگولرائزیشن (باقاعدہ منظوری) جیسے متبادل طریقوں کے ذریعے حل کرنے پر غور کیا جائے، تاکہ طلبہ کی تعلیم بلا تعطل جاری رہ سکے۔









