تہران، 20 مارچ ( یو این آئی) آسٹریلیا میں منعقدہ ویمنز ایشین کپ میں شرکت کے بعد ایران کی قومی خواتین فٹ بال ٹیم وطن واپس پہنچ گئی، جہاں حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے ان کا ‘ہیروز جیسا استقبال کیا۔ یہ واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹیم کے چند ارکان کی جانب سے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواستوں اور پھر ان کی واپسی کے معاملے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔
تہران کے مرکز میں واقع ولی عصر اسکوائر پر ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
اسکوائر پر لگے ایک بڑے بل بورڈ پر کھلاڑیوں کی تصاویر کے ساتھ “میرا انتخاب، میرا وطن” کا نعرہ درج تھا۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے اس موقع پر کہا کہ “یہ کھلاڑی اپنے وطن، پرچم اور انقلاب کے ساتھ وفادار ہیں۔” فاطمہ مہاجرانی نے کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کی منتظر تھی۔ٹورنامنٹ کے دوران ٹیم کے چھ کھلاڑیوں اور ایک اسٹاف ممبر نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔
کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ ایرانی حکام نے کھلاڑیوں کے خاندانوں پر دباؤ ڈالا اور انہیں ہراساں کیا، جس کی وجہ سے پانچ کھلاڑی اپنی درخواستیں واپس لے کر وطن لوٹنے پر مجبور ہوئیں۔
تہران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آسٹریلیا نے کھلاڑیوں کو گھر، گاڑی اور بھاری رقم کے عوض منحرف ہونے پر اکسانے کی کوشش کی، جسے کھلاڑیوں نے اپنی قومی شناخت کی خاطر ٹھکرا دیا۔
ٹورنامنٹ کے پہلے میچ کے دوران کھلاڑیوں نے قومی ترانہ نہیں پڑھا تھا، جس پر ایران کے سخت گیر حلقوں اور سرکاری میڈیا نے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے “غدار” قرار دیا تھا۔ تاہم، تہران میں ہونے والی استقبالیہ تقریب میں تمام کھلاڑیوں اور حکام نے مل کر قومی ترانہ پڑھا، جسے وفاداری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔









