ودیشہ:15؍اپریل :گزشتہ دنوں شاشوت منچ دہلی اور کاروان محبت ہندی اردو آل انڈیا ٹرسٹ اور انجمن فروغ ادب ودیشہ کی جانب سے ایک آل انڈیا مشاعرہ/ کوی سمیلن ، عید ملن اور تقسیم اعزازات، پروگرام جے کامپلیکس بڑی بزریہ ودیشہ میں منعقد کیا گیا ، جس کی صدارت شہر کے مشہور شاعر نثار مالوی نے کی اور نظامت کے فرائض وسیم جھنجھانوی مظفر نگر نے ادا کیئے ، اس مشاعرے کے صاحب جشن بنگلورو کرناٹک سے آئے الحاج حافظ بابا جی رہے ، اس مشاعرے میں مہمان خصوصی سابق ایم ایل اے شہر کے ہر دل عزیز ششانک بھارگو ، شہر کے مشہور شخصیت گووند دیولیا جی ، کانگریس پارٹی کے صدر موہت رگھوونشی جی ، نریندر سونی جی ، سریش موتیانی جی مشاعرے میں رونق افروز رہے ۔ اور اس مشاعرے میں انجمن فروغ ادب کے صدر چاند خاں’’چاند‘‘ کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مشہور شاعر اور کوییوں نے اپنی اپنی غزلوں اور گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب دادو تحسین حاصل کی۔ مشاعرے میں دہلی کے منوج شاشوت ، ٹانڈا یو پی کے ارشد جمال پریاگ راج کے اختر الہٰ آبادی، وسیم جھنجھانوی مظفر نگر، اشوک گلاوٹھی بلند شہر، ابھینیش ساگر منگاولی، محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ رائسین ، رخسانہ زیبا بھوپال، نواب ممتاز احمد خان بھوپال کے علاوہ مقامی شاعروں میں نثار مالوی ،گووردھن راجوریا، سریندر شری واستو ، سنتوش شرما ساگر، سنجے چترویدی ، تنظیم کے سیکریٹری ادے ڈھولی، حبیب ناداں سرونجی ، اشوک کھرے ، ستیندر دھاکڑ ، شاہد علی شاہد ، نظیر نوری، ہرگووند میتھل جی ، محمود کامل، چندو قریشی ،اوصاف احمد اوصاف اور ، رئیس شیخ، نیرج ریکوار ، سنتوش نامدیو جی، اور بھی بہت سے شعراء اور کوییوں نے اپنے اپنے کلام پیش کیئے ۔
منتخب اشعار درج ذیل ہیں:
منوج شاشوت
تم اگلی صف میں بیٹھے ہو ، میں بھی ہوں اک کونے میں
وقت نہیں لگتا ہے صاحب ادلا بدلی ہونے میں
ارشد جمال
کچھ بھی کہیئے مگر غضب سمجھا ،حسب معمول اس نے سب سمجھا
پہلے سمجھا نہیں وہ ہرجائی،جب لگا تیر دل پہ تب سمجھا
اختر الہٰ آبادی
میری پرواز سے ڈرتا بہت ہے
وہ میرے پر کترنا چاہتا ہے
وسیم جھنجھانوی
تہذیب مرے ہند کی یہ گنگو جمن ہے
یہ میرا وطن میرا وطن میرا وطن ہے
نثار مالوی
محبت سے دلوں کو جیتنا آسان ہوتا ہے
سیاست کی لڑائی میں بڑا نقصان ہوتا ہے
چاند خاں’’چاند‘‘
انگلیاں مجھ پہ اٹھانے کا تجھے حق ہے تبھی
جھانک کر پہلے گریباں کے تو اندر دیکھے
اشلوک گلاوٹھی
آدمی کو ہر قدم انسان ہونا چاہیے
سب کے دل میں پیارا ہندوستان ہونا چاہیے
صبیحہ صدف
وہ سامنے ہو کر بھی حجابوں میں نہیں ہے
اور میری نظر دیکھنے والوں میں نہیں ہے
رخسانہ زیبا
جو اپنے آپ کو کہتے ہیں باغباں لوگوں
وہی تو آگ چمن میں لگائے بیٹھے ہیں
ابھینیش ساگر
میری دعا کے شجر پہ ثمر نہیں آیا
صدائیں دیتا رہا وہ مگر نہیں آیا
سنتوش شرما ساگر
کبھی کچا بناتی تھی کبھی پکا بناتی تھی
مگر ماں جو بناتی تھی بہت اچھا بناتی تھی
ادے ڈھولی
بات کس دین کی کرتے ہیں خدا ہی جانے
دست معصوم میں ہتھیار تھمانے والے
شاہد علی شاہد
ننے ننے پاؤ تھے ، دور بہت تھا گاؤ
بس ندیا میں ڈال دی ،کاغذ والی ناؤ
نظیر نوری
وقت اتنا تو مجھے دو کے بات ہو جائے
تمہاری زلف کے سائے میں رات ہو جائے
ان کے علاوہ اور بھی کئی کوییوں اور شاعروں نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب دادوتحسین حاصل کی۔ دیر رات تک چلے اس مشاعرے میں شہر کے معتبر سامعین اور ادیبوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کی تعداد سامعین کی حاضری رہی اور آخر میں تنظیم کے سیکریٹری ادے ڈھولی نے سبھی حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا ۔









