رائسین:15؍اپریل(پریس ریلیز) ضلع رائسین کی غیرت گنج تحصیل میں بدھ کے روز کسانوں کے مختلف مسائل کو لے کر زبردست اور شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔ کرانتی کاری کسان تنظیم مدھیہ بھارت کے بینر تلے بڑی تعداد میں کسانوں نے اکٹھا ہو کر انتظامیہ کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس دوران کسانوں نے ایک جانب ایس ڈی ایم کو یادداشت پیش کی، وہیں خریداری (اپارجن) کا کام شروع نہ ہونے پر غصے میں آ کر بھوپال-ساگر مرکزی سڑک پر چکہ جام بھی کیا اور مرکزی وزیر زراعت و وزیر اعلیٰ کے پتلے نذرِ آتش کیے۔
کسانوں نے انوبھاگیہ ادھیکاری راجسو (آئی اے ایس) انکِت جین کے توسط سے گورنر کے نام یادداشت پیش کرتے ہوئے اپنے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ یادداشت میں بتایا گیا کہ خریداری مراکز پر سلاٹ بکنگ کا نظام مکمل طور پر متاثر ہے اور کسانوں کو انتظار کا ایس ایم ایس موصول نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے وہ اپنی پیداوار فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔تنظیم کے صدر مکیش دھاکڑ کی قیادت میں کسانوں نے اپنی اہم مطالبات میں چنا اور مسور کی خریداری فوری شروع کرنے، سیٹلائٹ پر مبنی رجسٹریشن میں آ رہی تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے اور ویئرہاؤس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1,000 کوئنٹل سے بڑھا کر 10,000 کوئنٹل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ مناسب مقدار میں باردانہ (بوری) فراہم کرنے اور تمام فصلوں کے لیے کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کی مانگ بھی کی گئی۔
کسانوں نے سوسائٹی قرض کی ادائیگی کی آخری تاریخ 31 مارچ سے بڑھا کر 31 مئی کرنے اور اس مدت کا سود معاف کرنے کی مانگ کو بھی اہمیت دی۔ ان کا کہنا ہے کہ خریداری میں تاخیر کے باعث انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور وہ بار بار اپنی پیداوار لے کر مراکز کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔احتجاج کے دوران کسانوں نے بھوپال-ساگر مرکزی سڑک پر تحصیل دفتر کے سامنے تقریباً دو گھنٹے تک چکہ جام کیا، جس سے ٹریفک مکمل طور پر متاثر رہا۔ موقع پر پہنچے انتظامی افسران اور پولیس نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور کسانوں کو سمجھایا۔اس دوران سلوانی کے رکنِ اسمبلی دیویندر پٹیل بھی موقع پر پہنچے اور افسران سے بات چیت کر جلد حل کا یقین دلایا۔ مشتعل کسانوں نے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان اور ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کا پتلا جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔
مظاہرے کے دوران کسانوں نے ایس ڈی ایم دفتر کے احاطے میں کَنڈوں پر بھٹّے سینک کر اور افسران کو چوڑیاں پیش کر انوکھے انداز میں احتجاج کیا۔ ساتھ ہی علامتی طور پر ایک ایک چُلّو پانی بھی دیا۔کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد کارروائی نہیں کی گئی تو وہ اپنے احتجاج کو مزید شدت دینے پر مجبور ہوں گے۔ وہیں انتظامیہ نے یادداشت وصول کرتے ہوئے مناسب کارروائی کا یقین دلایا اور کہا کہ جلد ہی خریداری کا عمل شروع کر کے کسانوں کے مسائل حل کیے جائیں گے۔