بھوپال، 6 جون: برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کے خلاف راجدھانی بھوپال میں مخالفت کی آوازیں لگاتار تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طرف جہاں سیاسی سطح پر کانگریس نے میمورنڈم سونپ کر اپنا اعتراض درج کرایا ہے، وہیں دوسری طرف طلبہ اور نوجوانوں نے بھی سڑکوں پر اتر کر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری محمد ظہیر نےگورنر، وزیر اعلیٰ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ایک مکتوب سونپ کر یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے پاس کردہ نام کی تبدیلی کی تجویز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی جیسے عظیم مجاہدِ آزادی کا نام ہٹانا ان کی تاریخی قربانیوں کی توہین ہے۔
اسی تنازعہ پر ہفتے کے روز عارف مسعود فینس کلب اور مختلف طلبہ تنظیموں کے بینر تلے نوجوان رہنما ایم ایل اے عارف مسعود کی قیادت میں نوجوانوں اور طلبہ نے جہانگیر آباد کی جنسی چوکی سے ایک بڑا پیدل مارچ نکالا، جو للی ٹاکیز چوراہے پر واقع ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے تک پہنچا۔ مظاہرین نے برکت اللہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے ادارے کا نام بدل کر ’’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ کرنے کی منظوری دیے جانے کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا۔ مظاہرے میں تقریباً 350 لوگ شامل ہوئے، جن میں 300 سے زائد طلبہ اور نوجوان تھے؛ منتظمین نے واضح کیا کہ یہ کسی سیاسی پارٹی کا ایونٹ نہیں بلکہ خالصتاً طلبہ کی مہم ہے۔ مارچ کے دوران طلبہ نے ’’برکت اللہ ہماری پہچان ہے‘‘ اور ’’اتہاس نہیں مٹنے دیں گے‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ نوجوان رہنماؤں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی سے ایک عظیم محبِ وطن کا نام ہٹانا ملک و قوم کے لیے ناقابلِ قبول اقدام ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے جمیعت علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے کہا کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی ملک کے عظیم مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے، جنہوں نے ملک کی پہلی جلاوطن حکومت میں وزیر اعظم کی ذمہ داری بھی نبھائی تھی۔ دوسری طرف، مدھیہ پردیش سرو دھرم سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری حاجی محمد عمران ہارون نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ریاست کو نئے اور عالمی سطح کے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، نہ کہ پرانے اداروں کے نام بدلنے کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت کسی نئے نام سے ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے تو نئی یونیورسٹیاں کھولے، لیکن بھوپال کی تاریخی پہچان اور جدوجہدِ آزادی کی اس وراثت پر مہم چلا کر حملہ نہ کیا جائے، ورنہ اس تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔









