بھوپال:5جون: اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عقیدہ اور عبادت کے بعد جس موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے مسائل ہیں۔ حلال و حرام کھا نے پینے اور لباس کے معاملات میں بھی ہے، باہمی تعلقات و حقوق کے حوالے سے بھی ہے اور کلام و گفتگو کے دائرہ میں بھی ہے۔ قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے موتی مسجد بھوپال میں حمد و ثنا کے بعد مذکورہ عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے دینی بھائیو اسلام میں حلال و حرام کے حوالے سے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جائز و ناجائز کے یہ دائرے صرف اس زمین میں نہیں بلکہ زمین میں آنے سے پہلے جنت میں بھی تھے اور بعث بعد الموت کے بعد جنت اور دوزخ میں چلے جانے کے بعد بھی رہیں گے۔ قرآن کریم میں ہے کہ اللہ رب العزت نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارنے سے پہلے جنت میں یہ کہہ کر ٹھکانہ دیا تھا کہ دونوں میاں بیوی جنت میں رہو اور بلا روک ٹوک جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔ یعنی جائز اور ناجائز کا فرق اس وقت بھی موجود تھا۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جب قیامت کے روز سب لوگ اپنے فیصلوں کے بعد جنت یا دوزخ میں چلے جائیں گے تو جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ہو گا جس کے ایک مرحلہ میں دوزخ کے لوگ جنت والوں سے تقاضہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو پانی اور رزق عطا کیا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی بھیجو، تو جواب میں اہلِ جنت کہیں گے کہ ’’ان اللّٰہ حرمھما علی الکافرین‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز قرار دینے کی اتھارٹی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دوٹوک بات کی ہے کہ یہ اتھارٹی صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کہ وہ جسے حرام قرار دے اسے کوئی حلال نہیں کر سکتا اور جسے حلال کہہ دے اسے کوئی حرام نہیں کہہ سکتا۔ حتٰیٰ کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں قسم اٹھائی کہ میں شہد استعمال نہیں کروں گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’لم تحرم ما احل اللّٰہ لک‘‘ جس چیز کو اللہ تعالیٰ حلال فرما رہے ہیں آپ نے اسے کیوں حرام کر دیا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ اگر حلال و حرام کے حوالے سے کسی کو کوئی اختیار دیتا تو مخلوقات میں جناب نبی اکرم ﷺ سے زیادہ کوئی اس کا مستحق نہیں تھا، مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی طور پر ایک حلال چیز کو استعمال نہ کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حلال و حرام کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ بلکہ حلال و حرام کی اتھارٹی میں کسی اور کو شریک کرنے کو جناب نبی اکرم ﷺ نے شرک کی ایک قسم فرمایا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کسی چیز کا حرام ہونا اس کے نقصان اور ضرر کی وجہ سے ہوتا ہے اور حلال ہونا اس کے نفع اور فائدہ کے باعث ہوتا ہے۔ مگر قرآن کریم نے اس کے علاوہ حلال و حرام کے اور اسباب بھی بیان کئے ہیں۔ مثلاً رمضان المبارک میں افطاری یا سحری کے اوقات میں ایک چیز کا استعمال چند لمحے پہلے جائز اور پھر ناجائز ہوتا ہے تو نہ چیز میں فرق پڑتا ہے نہ استعمال کرنے والے میں کوئی تبدیلی آتی ہے، صرف حکم بدلتا ہے کہ افطاری کے وقت سے پہلے استعمال کی اجازت نہیں تھی اس کے بعد اجازت مل گئی۔ اسی طرح سحری میں چندلمحے پہلے تک ایک چیز کھا پی سکتے تھے، وقت ختم ہوتے ہی وہ ممنوع ہو گئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جائز یا ناجائز ہونے میں اصل علت حکمِ خداوندی ہے، چیز کا نفع نقصان ثانوی چیز ہے جبکہ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ بہت سی اشیاء کو ان کے ضرر اور نقصان کی وجہ سے حرام کیا گیا ہے۔ مثلاً شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا کہ ’’رجس‘‘ یہ گندگی ہے۔ شراب کے بارے میں کہا کہ یہ نشہ دیتی ہے، عبادات سے غافل کر دیتی ہے اور باہمی جھگڑوں کا باعث بنتی ہے۔
کتاب و سنت میں رزقِ حلال اختیار کرنے اور پاکیزہ غذا کھانے پر اس لئے زور دیا گیا ہے کہ غذا کا اثر انسان کے قلب و دماغ پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے جذبات پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر اولاد پرپڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے۔ رزقِ حلال کے طفیل دل میں رقت و لطافت پیدا ہوتی ہے اس میں شکر و صبر اور استغفار کے جذبات پرورش پاتے ہیں۔ ذہن و دماغ میں پاکیزہ خیالات جنم لیتے ہیںاور انوار کی بارش محسوس ہوتی ہے۔ اگر رزق حرام ہوگا تو معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔ نور کے بجائے ظلمت دل و دماغ پر چھا جائے گی۔ نیکی اور قبولِ ہدایت کی صلاحیت اور استعداد ختم ہوجائے گی۔ دل اور دماغ پر منفی اثرات غالب آئیں گے۔
اگر کوئی شخص رزقِ حلال و طیب کی پابندی کے ساتھ عمل ِ صالح میں زندگی گزارتا ہے توگویا اس نے دنیا کو بھی پالیا اور آخرت کو بھی! مذکورہ آیت (مومنون:۱۵) میں مختصر سے کلمے میں یہ نمایاں اشارہ موجود ہے کہ پاکیزہ روزی یا حلال رزق کے بغیر اعمالِ حسنہ اور اخلاقِ عالیہ کا ہونا ممکن نہیں اور اسی طرح اعمالِ حسنہ یا اخلاقِ حسنہ سے جس شخص کی زندگی خالی ہو، یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے دامنِ معیشت کو حرام کی آلائشوں سے بچائے گا اور رزقِ حلال کمانے کیلئے غیرمعمولی جہدومشقت کرے گا۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ مگر افسوس ! ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جلد از جلد آگے بڑھنے کی حرص میں مشیت الٰہی کا انتظار نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل و دماغ کو حرام کا چسکا لگ جاتا ہے اور پھر ہمارا مزاج اس قدر بگڑجاتا ہے کہ وہ حلال غذا قبول ہی نہیں کرتا۔ بالکل اس بیمار کی طرح جو ہاضمے کی خرابی کے باعث اچھی غذا کو ہضم نہیںکرسکتا اور ہم بابِ رحمت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اْوپر بند کروالیتے ہیں۔
آج اگر دعائیں قبول نہیں ہورہی ہیں، اخلاص و یکسوئی کے باوجود عبادات میں ایسا لطف و سْرور محسوس نہیں ہوتا جو یاد الٰہی کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، معاشرہ ذہنی اور روحانی ابتری، اخلاقی تنزل اور بے سکونی کا شکار ہے، تو اس کا ایک بنیادی سبب رزقِ حلال میں محتاط رویہ نہ اپنانا ہے۔ رزقِ حلال سے قلب و روح کو جِلا ملتی ہے اور سرور ولذت سے قلوب آشنا ہو تے ہیں۔
رب کریم ہمیں زندگی کے تمام معاملات میں حلال کی اہمیت اور حرام کی نحوست کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔








