بھوپال:24؍جولائی:وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر راکیش سنگھ نے کہا ہے کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ کا ہر تعمیراتی کام صرف سڑک، پل یا فلائی اوور کی تعمیر نہیں بلکہ ریاست کی ترقی، عوام کی سہولت اور اعتماد کی مضبوط بنیاد ہے۔ محکمہ کا بنیادی مقصد تعمیرات عامہ سے عوامی بہبود کے جذبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیار، بروقت تکمیل، شفافیت اور جوابدہی ہی محکمہ کی کارکردگی کی بنیاد ہیں اور انہی معیارات کے مطابق ہر منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ جمعہ کو ولبھ بھون میں پل تعمیراتی کاموںکی جائزہ میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔میٹنگ میں محکمہ تعمیراتِ عامہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سکھویر سنگھ، محکمہ کے سینئر انجینئرز، چیف انجینئرز، سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز، دیگر محکمانہ افسران، مختلف تعمیراتی ایجنسیوں اور ٹھیکیداروں کے نمائندے موجود تھے۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہر پروجیکٹ کا مقررہ مدت میں بہترین معیار کے ساتھ مکمل ہونا محکمہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ جائزہ، مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ، تکنیکی جانچ اور بروقت فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ پروجیکٹ پر عمل درآمد میں پیش آنے والی عملی مشکلات کا فوری حل نکال کر کاموں میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کہا کہ تعمیراتی کاموں کے معیار، بروقت تکمیل اور تکنیکی معیارات پر مکمل عمل درآمد ہر منصوبے کی لازمی شرط ہے۔ پروجیکٹوں پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی سستی، غیر ضروری تاخیر یا مقررہ معیارات سے انحراف قابل قبول نہیں ہوگا۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہر افسر، انجینئر اور تعمیراتی ایجنسی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرتے ہوئے بہترین ورک کلچر کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعمیراتی کام محکمہ کی شناخت ہیں اور انہی کی بنیاد پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران اور تعمیراتی ایجنسیوں کی محکمہ مسلسل حوصلہ افزائی کرے گا، جبکہ جن منصوبوں میں مطلوبہ معیار یا پیش رفت میں بہتری کی ضرورت ہوگی، وہاں فوری اصلاحی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ ریاست میں محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ممکن ہو سکے۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر راکیش سنگھ نے کہا کہ محکمہ اور تعمیراتی ایجنسیاں ترقی کے سفر کی شراکت دار ہیں۔ ٹھیکیدار بہترین معیار کے ساتھ کام کریں، منصوبے وقت پر مکمل کریں، اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو مضبوط بنائیں اور ریاست کی ترقی میں فعال شراکت دار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مثبت مکالمے اور باہمی رابطے کے جذبے سے کام کرتا ہے اور کام کے دوران پیش آنے والی عملی مشکلات اور تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج معیار ہی کسی بھی تعمیراتی ایجنسی کی سب سے بڑی شناخت ہے۔ بہترین کام صرف تکنیکی اعتبار سے ہی بہتر نہیں ہوتا بلکہ عوام کا اعتماد بھی حاصل کرتا ہے۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں تعمیراتی کاموں کو قومی سطح کے بہترین معیارات تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملک کی سرکردہ ریاستوں کے بہترین طریقہ کار، جدید ٹیکنالوجی اور کامیاب تجربات کا مطالعہ کرکے انہیں ریاست کی ضروریات کے مطابق اپنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش خود بھی متعدد تکنیکی اختراعات میں ایک سرکردہ ریاست رہا ہے اور مستقبل میں بھی اختراع پر مبنی تعمیراتی کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ محکمہ اور تعمیراتی ایجنسیاں ترقی کے شراکت دار ہیں اور دونوں کا مشترکہ مقصد ریاست کو محفوظ، پائیدار اور اعلیٰ معیار کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جلد ہی انجینئروں اور ٹھیکیداروں کی مشترکہ ورکشاپ منعقد کرے گا۔ اس میں جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی، معیار کے معیارات، منصوبہ جاتی انتظام، بہترین طریقہ کار اور اختراعات پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ مختلف ریاستوں کے کامیاب تجربات بھی شیئر کیے جائیں گے تاکہ ریاست میں مزید مؤثر اور جدید تعمیراتی ورک کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ مسٹر سنگھ نے کہا کہ محکمہ کا طریقہ کار مسلسل ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنایا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ، باقاعدہ فیلڈ معائنہ، مؤثر معیار کی جانچ اور بروقت ادائیگی جیسے انتظامات سے منصوبوں پر عمل درآمد میں شفافیت اور کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے افسران اور تعمیراتی ایجنسیوں سے ٹیکنالوجی پر مبنی نظامِ کار اپنانے اور بدلتے وقت کے مطابق خود کو تیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ محکمہ، انجینئروں، تعمیراتی ایجنسیوں اور ٹھیکیداروں کی مشترکہ کوششوں سے مدھیہ پردیش میں محفوظ، پائیدار اور اعلیٰ معیار کے پلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر یقینی ہوگی اور ریاست بہترین تعمیراتی ورک کلچر کے قومی ماڈل کے طور پر قائم ہوگی۔
میٹنگ میں پلوں سے متعلق 30 کروڑ روپے سے زائد لاگت والے زیرِ تعمیر فلائی اوور، ریل اوور برج (آر او بی) اور پل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پیش کی گئی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر 48 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 5 فلائی اوور، 33 ریل اوور برج (آر او بی) اور 10 پلوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ منصوبہ وار اور ضلع وار جائزے کے دوران تعمیراتی پیش رفت، تکنیکی پہلوؤں، مختلف محکموں کے درمیان رابطے، رکاوٹوں اور مقررہ مدت کے مطابق کاموں کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ زیر التوا اور چیلنجنگ پروجیکٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر تیز رفتاری سے مکمل کرنے اور باقاعدہ نگرانی کے احکامات دیے گئے۔