نئی دہلی 22ستمبر:کیا کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے لڑنے والے مریضوں کو کھلے عام دھوکہ دیا جا رہا ہے؟ سپریم کورٹ نے کینسر کی ضروری ادویات کی قیمتوں کے گھپلے پر بہت سخت مؤقف اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے دن دہاڑے ڈاکہ قرار دیا ہے، کیونکہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں انہیں ریٹیلرس کو صرف 2,700 میں فروخت کرتی ہیں، مریضوں سے اس کی ایم آر پی 27,000 تک کی وصول کر رہی ہیں۔ اس سنگین معاملے میں حکام کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ نے صاف طور پر کہا ہے کہ ہسپتال کم قیمتوں پر ادویات خرید رہے ہیں اور حکومت سے ری ایمبریسمنٹ لیتے ہیں، جو براہ راست عام ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر متعلقہ حکام کی خاموشی پر بھی تند و تیز سوالات اٹھائے۔
معاملہ اس وقت گرم ہوا جب عدالت کو معلوم ہوا کہ کینسر کی کچھ ضروری ادویات مینوفیکچرنگ کمپنیاں خوردہ فروشوں کو صرف2ہزار700 روپے میں فروخت کرتی ہیں۔ ، لیکن عام مریضوں کے لیے ان کی پرنٹ شدہ ایم آر پی27,000 روپے تک رکھ دی جاتی ہے۔ 10 گنا تک کے اس بڑے فرق سے سپریم کورٹ کے جج آگ بگولہ ہوگئے۔ عدالت نے سخت ریمارکس دیئے کہ یہ سراسر لوٹ ہے اور مریضوں کے ساتھ لوٹ مار ہے۔ جب ہسپتال کم قیمتوں پر ادویات خریدتے ہیں اور حکومت سے معاوضہ وصول کرتے ہیں تو یہ عوام اور ٹیکس دہندگان کے فنڈز کا براہ راست غلط استعمال ہے۔