بھوپال:29؍مئی:(پریس ریلیز)نصف صدی سے زائد عرصہ دراز تک اردو شاعری کی ابرو کہلا جانے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کا طویل علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہوجانا پوری اردو دنیا کے لئے ایک بہت ہی بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے انہوں نے غزل کو ایک جدید لب و لہجہ اور اور ایک اچھوتا رنگ و آہنگ عطا کیا تھا انہوں نے غزل کو صرف اور صرف لب و رخسار اور گل گلزار تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے تلخ حقائق کو بھی اپنی غزلوں کا جامہ پہنایا ہے انہوں ملک اور بیرون ملک بھی اردو شاعری کی کامیاب نمایندگی۔ ان کی شاعری دل آواز ہے جو جذبات واحساسات کی ترجمان ہے میرٹھ کے ایک فساد میں فسادیوں نے ان کے گھر کو نذرآتش کردیا تھا تب ہی انہوں نے کہا تھا کہ ۔۔۔لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں ۔
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
اس طرح کے ہزاروں اشعار آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے جیسے ان کا یہ بہت ہی مشہور شعر ۔۔اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو ۔۔۔نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے ۔
میں جب سے چلا ہوں میری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ۔میں موم ہوں اس نے مجھے چھوکر نہیں دیکھا
انہوں نے وہ عرصہ دراز سے ترک وطن کرکے بھوپال میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ گزشتہ سال انجمن ترقی اردو بھوپال نے ان کے ایک شعری مجموعہ کی تقریب رسم اجرا بہت ہی تزک و احتشام سے منعقد کی تھی جس مجھکو کو بھی مدعو کیا تھا مجھے ان کی یہ غزل بہت ہی زیادہ پسند ہے ۔۔ کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ۔اسی زمین پر میں نے بھی ایک غزل کہی تھی جو انجمن ترقی اردو بھوپال کی سال سابقہ کی تقریب رسم اجرا میں مجھے سنانے کا موقع ملا تھا بہر کیف آج پوری اردو دنیا سوگوار ہے خاص اہلیان بھوپال کہ ان کے درمیان سے اردو شاعری کا ایک اہم ستون جل بسا ۔۔پقلم روپالی سکسینہ غزل بھوپال ۔