نئی دہلی :29؍مئی (پریس ریلیز) آج عید الاضحٰی کی نماز کے بعد قربانی اور وہ بھی سب بھائیوں کی طرف سے کروا ہی رہا تھاکی بھوپال کی ناموربزرگ ادیبہ اور مشہور رسالہ فکر و آگہی کی مدیرہ ڈاکٹر رضیہ حامد صاحبہ کا فون آیا میں سمجھا عیدکی دعاؤں اور مبارکباد کے لیے کر رہی ہونگی قربانی سے فارغ ہو جاوں تو بات کرکے مبارکباد دیتا ہوں کچھ وقت کے بعد فون کیا تو ادھر سے کوئ آواز نہیں ویسے بھی ڈاکٹر رضیہ حامد صاحبہ کان میں آلا لگا کر بات کرتی ہیں دو میسیج کیے تو جواب نہیں تشویش ہوی کیونکہ محترمہ رضیہ آنٹی کے شوہر سید حامد صاحب کا کچھ دن پہلے ہی انتقال ہوا ہے اور وہ عدت میں بیٹھی ہوئی ہیں پھر انکے کمزور شاکر ندوی کو فون کیا اتنے میں ہی رضیہ آنٹی کا میسیج آ گیا کی بشیر بدر صاحب کا ابھی ابھی انتقال ہو گیا جیسے عید کی خوشیاں چھو منتر ہو گیں تعزیت کرتے ہوئے آنسو نکل پڑے جو اب تک جاری و ساری ہیں۔بشیر بدر صاحب کا کا کسی زمانے میں مشاعرہ میں ایک چھتر راج چلتا تھا اور مشاعرہ کی تاریخ ان سے صلاح کرنے کے بعد رکھی جاتی تھیں بہت سارے واقعات آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے. والد صاحب کے انتقال کے بعد دو تین بار بھوپال جانا ہوا مگر چاہ کر بھی نہیں گیا کی اپنے پسندیدہ شاعر کی یہ حالت دیکھی نہیں جاے گی والد صاحب کے انتقال کے بعد سے ہے بہت عجیب طرع کی زندگی گزر رہی ہے رضیہ آنٹی واحد ایک بھوپال کی ادیبہ ہیں جو ہمیں ہمت اور ڈھارس بندھاتی رہتی ہیں والد صاحب کے کچھ شاگرد جو جامعہ میں پروفیسر رہ چکے ہیں انکی دشمنی کا سن کر انکو مارنے پیٹنے کا پروگرام تھا جو کی رضیہ آنٹی کی ہدایت پر ملتویکرنا پڑا حالانکہ انکو دہلی اردو اکادمی سے نکلوا دیا تھا پر ایک نے پھر سوربھ بھاردوج کے پاوں پکڑ لیے میں بھی ممبر بنا پر نام واپس لے لیا رضیہ آنٹی نے والد صاحب کے انتقال کے بعد تاقید کی تھی کی تم سب بھائی پہلے کی طرح مل جل کر رہنا ہم پانچوں بھائی اسی پر گامزن ہیں اور سانجھا چولہا جلتا ہے آج بھی ہمارے گھر۔بشیر بدر صاحب والد صاحب کے بہت پرانے دوست تھے والد صاحب نے انکی شاعری کے بارے میں کچھ لکھ دیا تھا منور رانا کے مضمون میں تو بشیر بدر ناراض ہو گے اور انھوں نے ایک لمبا چوڑا خط لکھ مارا والد صاحب نے اس کا جواب مضمون کی شکل میں دیا وہ مضمون مژگاں کے مظفر حنفی نمبر میں بشیر بدرم کے عنوان سے موجود ہے پہلے وہ بیسویں صدی میں چھپا اور دو تین سال تک بہث و مباحثہ چلتا رہا بعد میں عنوان چشتی بھی عروز کا ڈانڈا لیکر کود پڑے۔ خیرلوگ بہت ادھر ادھر کی کرتے رہے مگر ان لوگوں کی دوستی میں کوئ فرق نہیں پڑا والد صاحب کی کچھ حاضر جوابیا‌ں انقلاب میں چھپی ان میں بھی بشیر بدر کی خصوصیات کا زکر ہے بات 1979 کی ہے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مشاعرہ تھا والد صاحب کو اسکی صدارت کرنی تھی مگر طبیعت علیل ہونے کی وجہ سے نہیں گے والد صاحب کی یہ منع کرنے کی خصوصیات انکے ساتھ ہی ختم ہو گئ وہ بڑے بڑے پروگرام کو منع کر دیتے تھے جبکہ آجکل زیادہ تر پروفیسر چھوٹے چھوٹے پروگرام کے لیے کنوینر اور مدیر اور نیتا کے چکر لگاتے ہیں جوتیاں سیدھی کرتے ہیں مشاعرے کے بعد باہر کھڑا تھا ملنے کے لیے وہ باہر نکلے میں عنوان چشتی انکل اور ایک دو انکے شاگرد انکا بیگ لیے انکے آگے ہاتھ باندھے کھڑے تھے بشیر انکل بہت زہین آدمی تھے انھوں نے پہلے مجھے گلے لگایا ماتھا چوما اور پھر دوسرے لوگوں سے مل کر نکلنے لگے مجھ سےکہا مظفر صاحب کیوں نہیں آے مینے کہا علیل ہیں تو کہنے لگے پہلے انکے پاس ہی چلتے ہیں میرے ساتھ گھر آے ساتھ میں جامعہ کے چپراسی مولانا جمیل بھی تو میرٹھ کے بشیر بدر کے ڑوسی تھے وہ آج بھی حیات ہیں کسی کو کچھ شک ہو تو معلوم کر سکتا ہے والد صاحب سےملکر پھر مینے اور مولانا نے انکو بس اڈے میں میرٹھ کی بس میں بٹھایا راستے بھر دعائیں اور والد صاحب کے فن کی تعریف کرتے رہے اب ایسے لوگ کہاں دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہوتی جا رہی اللہ انکی مغفرت فرمائے آمین۔
جلد ہی بھو پال جا کر تعظیعت پیش کروں گا بلا شبہ وہ اردو غزل کی ان بان شان اور نوجوان لوگوں کے سب سے مقبول شاعر تھے۔
انجینئر فیروز مظفر دہلی
جنرل سیکرٹری مظفر حنفی میموریل سوسائٹی (نئ دہلی)