بھوپال:29مئی: آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں نمازیوں کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کا عظیم احسان و کرم ہے کہ ہم، آپ نے گزشتہ کل پر امن اور سازگار ماحول میں عید الاضحی کی نماز ادا کی اور سنت ابراہیمی پر اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق عمل کیا ۔اس وقت تفصیل کی گنجائش نہیں کہ قربانی کے فضائل و مسائل پر گفتگو کی جائے البتہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی قربانیوں اور اللہ کے سامنے ان کی تسلیم و رضا سے ہمیں جو سبق ملتا ہے ، اس پر گفتگو کئے جانے کی ہمیشہ ضرورت ہے کیوں کہ ان کی ہر ادا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ محترم حاضرین اسلام کے اصل معنی تسلیم و رضا کے ہیں ، انسان اپنے آپ کو خالق کے حکم کے سامنے بچھادے ، اپنی خواہشات کو خدا کی رضا جوئی کی چوکھٹ پر قربان کردے اور یہ عقیدہ و ایمان سے لے کر جان و مال اور اس سے بڑھ کر اولاد و عیال تک ہو جائے تو یہ بندگی کا کمال اور عبدیت کی معراج ہے ، عبدیت و بندگی کا یہ درجہ و مقام انسان کے جس گروہ کو سب سے بڑھ کر حاصل ہے وہ حضراتِ انبیاء کرام ہیں جو اللہ کے سب سے محبوب بندے اور انسان کیلئے اسوۂ کامل ہیں ، ان کا ایک ایک عمل زمین پر اللہ کی مرضیات کی زندہ شہادت ہے ، یہ انبیاء زمین پر ہدایت کی روشنی اور مشعل راہ کا درجہ رکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابنیاء کرام علیہم السلام میں بھی کسی قدر مرتبہ و مقام کا فرق رکھا ہے۔
نبوت کے سلسلۃ الذہب میں ایک نہایت عظیم اور برگزیدہ شخصیت ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۔اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے قربانی کی ایسی کوئی قسم نہیں جو ان سے چھوٹی ہو اور امتحان وآزمائش کی کوئی ایسی بھٹی نہیں جس میں ان کو تپایا نہ گیا ہو۔
انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ وفا شعاری ، عبدیت و بندگی ، خدا کی محبت میں خلائقِ دنیا سے بے نیازی ، خود سپردگی ، شرک سے نفرت ، دعوتِ حق اور بیت اللہ کی تعمیر و تجدید کے ایسے زندہ و تابندہ نقوش خدا کی زمین پر چھوڑے کہ خود خدا کو بھی اپنے اس وفا شعار بندے کی ادائیں محبوب و مرغوب ہو گئیں اور اْمت ِمحمدیہ کے لئے سنن ابراہیمی کو تازہ رکھنے کا سامان کیا گیا ، حج در اصل اللہ کے اسی نیک بندے کی یادگار اور خدا کے سامنے تسلیم ورضا کا شعار ہے ، کعبہ جس کی نبیادیں تک مٹ چکی تھیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تجدید فرمائی ، آج بھی مقام ابراہیم کعبہ کے سامنے موجود ہے ، زم زم کا چشمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے نصرتِ الٰہی کی یاد دلاتا ہے ، صفا اور مروہ کی سعی سے ایک بندی صالحہ حضرت ہاجرہ کی بے چینی اور بے تابی کی یاد تازہ ہوتی ہے ، پھر منیٰ کی قربانی اس ذبحِ عظیم کی یادگار ہے ، جس میں ایک پیغمبر نے اپنے لخت جگر کو اپنے تئیں خدا کی خوشنودی کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھایا تھا ، جمرات کی کنکریاں عزمِ ابراہیمی اور وسوسہ شیطانی سے پنجہ آزمائی کا اظہار ہیں۔
یہی اسوۂ ابراہیمی ہے کہ سب کچھ خدا کی خوشنودی کی چوکھٹ پر قربان ہو جائے ، اپنی اور اپنوں کی خواہش ، دوستوں اور قرابت داروں کی خوشی ، انسانی زندگی میں قدم قدم پر ایسے مواقع آتے ہیں کہ اللہ کا حکم اور ہوتا ہے ، انسان کی خواہش کچھ اور ، نفس چاہتا ہے کہ یہ حلال ہو مگر شریعت اسے حرام قرار دیتی ہے ، یہی وقت ہے کہ انسان حضرت ابراہیم کے کردار کو یاد یاد کرے اور اسے اپنی عملی زندگی میں اتارنے کی کوشش کرے،ایسا نہ سوچے کہ
حق بات کہوں تو کیا ہوگا؟ ‘ میری نوکری نہ چلی جائے، کہیں کاروبار ماند ہ نہ پڑجائے، رشتہ دار، دوست احباب ناراض نہ ہوجائیں،یہ بات فلاں کے حق میں کہوں تو فلاں کے خلاف ہو جائے گی اوران کی ناراضگی تو میں مول لے ہی نہیں سکتا وغیرہ ۔ یہ بے بنیاد اندیشے انسان کو ہمت و جرأت اور عدل و انصاف کے ساتھ صداقت و حق گوئی سے روکتے رہتے ہیں۔ ہم جان لیں کہ محض صاحب نصاب و استطاعت ہوجانے پر فریضہ حج و قربانی کی ادائیگی کر دینے سے رسم ابراہیمی تو ادا ہو جائیگی لیکن سنت ابراہیمی ادا کرنے کیلئے وہ خود سپردگی ، رجوع الی اللہ ، تقویٰ اور تسلیم و رضا کے ساتھ کامل ایمان کی ضرورت ہے۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ مسلمان سنت ابراہیمی کے ساتھ کردار ابراہیمی بھی اپنائیں ، اپنے خاندان،اہل خانہ اور بچوں کو حضرت ابراہیم و اسماعیل اور حضرت ہاجرہ جیسی تسلیم و رضا کا سبق پڑھائیں ،جہاں رضائے الٰہی ہر حال میں مقدم ہو ۔رب کریم ہمیں ہر امتحان اور آزمائش میں کامیاب و کامراں فرمائے ۔