چلمسفورڈ ، 27 مئی (یواین آئی) خواتین کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کو مدِنظر رکھتے ہوئے، چلمسفورڈ، برسٹل اور ٹاؤنٹن کے میدانوں پر کھیلی جانے والی یہ تین میچوں کی سیریز دونوں ٹیموں کے لیے بہترین تیاری کا موقع ثابت ہوگی جو ٹرافی جیتنے کا عزم رکھتی ہیں۔ ایک طرف انگلینڈ صوفیہ ڈنکلی اور الیس کیپسی کی نئی اوپننگ جوڑی کو کریز پر وقت دینے کا خواہشمند ہوگا، تو دوسری طرف ہندوستانی ٹیم گزشتہ سال انگلینڈ کی سرزمین پر حاصل کی گئی تاریخی ٹی ٹونٹی سیریز کی فتح کو دہرانا چاہے گی۔انگلینڈ کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اپنے منصوبوں اور حکمتِ عملی – خاص طور پر کھلاڑیوں کے کردار کے تعین کو حتمی شکل دے، کیونکہ ٹیم نے تقریباً ایک سال تک اس فارمیٹ میں کوئی کرکٹ نہیں کھیلی تھی (گزشتہ ہفتے ڈربی میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرنے سے پہلے، انہوں نے اپنا آخری ٹی ٹونٹی جولائی 2025 میں ہندوستان کے خلاف کھیلا تھا)۔ کپتان نیٹ اسکیور برنٹ کی انجری کے باعث عدم موجودگی نے ان کی منصوبہ بندی کو مزید متاثر کیا ہے، حالانکہ انہوں نے اس دھچکے کے باوجود نیوزی لینڈ کو 2-1 سے شکست دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔انگلینڈ کی ترجیحات میں صوفیہ ڈنکلی اور الیس کیپسی پر مشتمل نئی اوپننگ جوڑی کو میدان میں زیادہ سے زیادہ وقت دینا شامل ہوگا، ساتھ ہی ڈانی گبسن اور فریا کیمپ کو انجری سے واپسی کے بعد بطور آل راؤنڈر خود کو ٹیم میں مستحکم کرنے کے مزید مواقع فراہم کرنا بھی اہم رہے گا۔ اس کے علاوہ فیلڈنگ میں بنا کسی غلطی کے شاندار کارکردگی دکھانا بھی ان کا ہدف ہوگا۔دوسری طرف، 50 اوورز کی موجودہ عالمی چیمپیئن ہندوستانی ٹیم نے گزشتہ موسمِ گرما میں انگلینڈ کی سرزمین پر پہلی بار تاریخی ٹی ٹونٹی سیریز جیتی تھی اور انگلینڈ کے برعکس وہ مسلسل کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اگرچہ سال کے آغاز میں انہوں نے آسٹریلیا میں فتح حاصل کی تھی، لیکن اپریل میں جنوبی افریقہ کے اپنے حالیہ دورے پر انہیں غیر متوقع طور پر 4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔







