بھوپال:30؍اکتوبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو مدھیہ پردیش کے 71ویں یوم تاسیس کے موقع پر لال پریڈ گراؤنڈ میں یکم سے 3 نومبر 2026 تک تین روزہ ’راجیہ اتسو‘ کا افتتاح کریں گے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو صبح 11 بجے لال پریڈ گراؤنڈ میں جدید زراعت پر مبنی نمائش، ترقیاتی گیلری، خواتین کی صنعت کاری کے منڈپ اور دیسی پکوانوں کے میلے کا افتتاح کریں گے اور ان کا معائنہ بھی کریں گے۔اس کے بعد شام 6.30بجے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی مہمان خصوصی میں مرکزی ثقافتی شام اور تقریب کا باوقار آغاز ہوگا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو راجیہ اتسو کے ذریعہ ریاست کے عوام کو یومِ تاسیس کی مبارک باد دیتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے نئے عزائم کا خاکہ پیش کریں گے۔وزیر مملکت ثقافت، سیاحت اور مذہبی ٹرسٹ اوراوقاف (آزادانہ چارج) مسٹر دھرمیندر بھاؤ سنگھ لودھی نے بتایا کہ مدھیہ پردیش کے سات دہائیوں پر مشتمل شاندار ترقیاتی سفر، خوشحال ثقافتی ورثے اور جدید فراہمیوںکو عوام تک پہنچانے کے لیے محکمہ ثقافت کی جانب سے یہ ریاستی سطح کی تقریب باوقار انداز میں منعقد کی جا رہی ہے۔اس تین روزہ فیسٹیول میں ہر روز سہل موسیقی، لوک اور قبائلی فنکاروں کی پیشکشیں، ساز بھون شاندار آتش بازی، دست کاری اور ترقیاتی نمائشوں کے ساتھ روایتی پکوانوں کا میلہ بھی لگایا جائے گا، جو شہریوں کے لیے دلکشی کا مرکز ہوگا۔
ریاست کے 102 باصلاحیت طلبہ و طالبات کو بھگوان شری کرشن میدھاوی اسکالرشپ ملے گی
وزیر مملکت مسٹر لودھی نے بتایا کہ تعلیم اور تعلیمی معیار کو فروغ دینے کی سمت میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست کے 102 ہونہار طلبہ کو ’بھگوان شری کرشن میدھاوی اسکالرشپ‘ اور توصیف نامہ فراہم کریں گے۔محکمہ ثقافت کے تحت شری کرشن پاتھَیے نیاس کے ذریعہ چلائی جانے والی اس اسکیم میں ہر منتخب ہونہار طالب علم کو ایک لاکھ روپے کی اعزازی رقم دی جائے گی۔ضلع وار انتخاب میں کھنڈوا ضلع سے سب سے زیادہ 6 طلبہ منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اشوک نگر، بڑوانی، نرمداپورم، سیونی، سنگرولی اور امریا سے 4، 4 طلبہ، جبکہ برہان پور، چھترپور، گنا، جھابوا، کٹنی، مئو گنج، ساگر، ستنا، شیور اور اجین سے 3، 3 طلبہ کو اس باوقار اسکالرشپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
زراعت سے معلومات اور سرکاری اسکیموں کی تشہیر کے مقصد سے منعقدہ ’کسان کلیان سوابھیمان پرو کوئز‘ کے 165 فاتحین کو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو انعامات سے نوازیں گے۔ویر بھارت نیاس اور محکمہ زراعت کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ اس آن لائن مقابلے میں پوری ریاست کے تقریباً 40 ہزار کسانوں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں سے صدفیصد نمبر حاصل کرنے والے 15,298 شرکاء کی میرٹ فہرست میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے 55 اضلاع کے 165 فاتحین کا انتخاب کیا گیا ہے۔ہر ضلع کے تین فاتحین کو بالترتیب درج ذیل انعامات دیے جائیں گے: پہلا انعام: 55 ٹریکٹر دوسرا انعام: 55 بلیٹ موٹر سائیکلیں تیسرا انعام: 55 ای اسکوٹربھوپال ضلع کے فاتحین کو وزیر اعلیٰ خود اعزاز سے نوازیں گے، جبکہ دیگر اضلاع میں انعامات متعلقہ انچارج وزراء تقسیم کریں گے۔وزیرمملکت مسٹر لودھی نے بتایا کہ اس سال یومِ تاسیس کی تقریب کا مرکزی موضوع ’ورثے سے ترقی کی راہ پر گامزن ریاست‘ رکھا گیا ہے۔یہ تصور مدھیہ پردیش کی مالا مال روحانی، تاریخی اور قبائلی جڑوں کو محفوظ رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے، زراعت، صنعتی سرمایہ کاری، سیاحت، تکنیکی اختراعات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے خود کفیل ریاست کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
کھیتوں میں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کی محنت، نوجوانوں کی نئی کوششیں، خواتین کی شراکت داری اور لوک روایات مل کر ترقی یافتہ مدھیہ پردیش کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔یہ تقریب ماضی کے وقار کو یاد کرنے، مضبوط حال کا جشن منانے اور خوشحال مستقبل کی اجتماعی تعمیر کی ایک مضبوط علامت ہے۔
لال پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہونے والی مختلف النوع نمائشوں میں مہاراجہ وکرمادتیہ شکتی پیٹھ کی جانب سے منعقدہ ورکشاپ میں سینئر مصوروں کے تیار کردہ ’راجہ بھوج کا بھوپال‘ کے موضوع پر 160 واٹر کلر تصاویر کی نمائش لگائی جائے گی، جو بھوپال کے علاقے کے قدیم ورثے کو ظاہر کرے گی۔اس کے ساتھ ہی زرعی نمائش میں بہتر بیج، نامیاتی زرعی اجزاء، اسمارٹ آبپاشی اور زرعی اسٹارٹ اپس کی نئی اختراعات پیش کی جائیں گی۔خواتین کی صنعت کاری کے منڈپ اور کسان بازار میں خود امدادی گروپوں کی مصنوعات اور دست کاریاں فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی۔وہیں ’سواد۔ دیسی پکوان میلہ‘ میں مالوہ، نِمَڑ، بندیل کھنڈ، بگھیل کھنڈ اور مہاکوشل کے روایتی پکوانوں کا منفرد ذائقہ شہریوں کے لیے ہر روز دوپہر 12 بجے سے رات 8 بجے تک دستیاب رہے گا۔
31 اکتوبر کو لوک اور قبائلی فنکاروں کے ساتھ بھوپال کے چار اہم راستوں سے ثقافتی عظمت کی یاترائیں نکالی جائیں گی
یوم تاسیس کی تقریبات میں عوامی شرکت بڑھانے اور شہریوں کو ثقافتی شعور سے جوڑنے کے لیے پیشگی تقریبات کے تحت 400 سے زیادہ لوک اور قبائلی فنکاروں کے ساتھ ثقافتی عظمت کی یاترائیں نکالی جا رہی ہیں۔30 اکتوبر کو سنت ہردارام نگر سے لال پریڈ گراؤنڈ اور جواہر چوک سے منڈی دیپ تک یاترائیں نکالی گئیں۔وہیں 31 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے سے پہلی یاترا جیوتی ٹاکیز سے شروع ہو کر بورڈ آفس چوراہا، 10 نمبر مارکیٹ، شاہ پورہ لیک، کولار روڈ، نہرو نگر اور نیل بڑ سے ہوتے ہوئے راتِی بڑ پہنچے گی۔اسی دن دوسری یاترا بیرسیا سے شروع ہو کر نادرا بس اسٹینڈ، اشوکا گارڈن، گووند پورہ، پپلانی اور ایودھیا نگر سے ہوتے ہوئے آنند نگر میں اختتام پذیر ہوگی۔ان یاتراؤں کے ذریعے عام لوگوں کو ریاست کے مالا مال لوک فنون، سازوں اور قبائلی روایات کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملے گا۔
’دیش راگ‘ کے تحت یکم نومبر کو 71 بچے قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ اجتماعی طور پر گائیں گے، پولیس بینڈ قومی ترانہ پیش کرے گا اور شاندار آتش بازی ہوگی
مرکزی تقریب کی شام کا باقاعدہ افتتاح یکم نومبر کو شام 6.30بجے قومی شعور اور حب الوطنی کے ماحول میں ہوگا۔اس موقع پر ’دیش راگ‘ کی پیشکش کے تحت 71 بچے قومی نغمہ ’وندے ماترم‘ کی دلکش اور جذباتی اجتماعی گائیکی پیش کریں گے، جو مدھیہ پردیش کے 71ویں یومِ تاسیس کی علامت ہوگی۔اس کے بعد مدھیہ پردیش پولیس کا سجا ہوا پولیس بینڈ باوقار انداز میں قومی ترانہ پیش کرے گا۔قومی اتحاد اور خودداری کے جذبے سے بھرپور ان پیشکشوں کے بعد لال پریڈ گراؤنڈ کے کھلے آسمان تلے ہونے والی شاندار اور دلکش آتش بازی پورے ماحول کو خوشی اور جوش سے بھر دے گی۔
افتتاحی شام کی خصوصی موسیقی کی کشش قومی فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے جانے والی مشہور پلے بیک گلوکارہ مس مونالی ٹھاکر اور ان کے ساتھیوں (ممبئی) کی سہل موسیقی کی پیشکش ہوگی۔فلم ’لوٹیرا‘ کے گیت ’سوار لوں‘ اور فلم ’دم لگا کے ہئیشا‘ کے ’موہ موہ کے دھاگے‘ جیسے مشہور گیتوں سے شہرت حاصل کرنے والی مونالی ٹھاکر اپنی سریلی آواز اور جذباتی گائیکی سے تقریب میں موسیقی کا جادو بکھیریں گی۔
20 سے زیادہ لوک اور قبائلی رقص، ’انوگونج‘ سازوں کی موسیقی اور جیسلمیر کے مشہور لوک گلوکار مامے خان کی پیشکش کے ساتھ راجیہ اتسو اختتام پذیر ہوگا
راجیہ اتسو کے دوسرے دن، 2 نومبر کو شام 6.30بجے سے مدھیہ پردیش کے کرما، سیلا، بھگوریا، بدھائی، مٹکی، کاٹھی اور دیگر ریاستوں کے گھومر، بھنگڑا، پنتھی، لیزھم سمیت 20 سے زیادہ روایتی رقصوں کی رنگا رنگ پیشکشیں ہوں گی۔اس کے بعد ’انوگونج – بریتھنگ فیسٹا‘ میں سازوں کی موسیقی گونجے گی۔تقریب کی آخری شام، 3 نومبر کو لوک رقصوں کے بعد جیسلمیر (راجستھان) کے بین الاقوامی شہرت یافتہ لوک گلوکار مسٹر مامے خان اور ان کا گروپ اپنی پیشکش پیش کریں گے۔اپنی پْرجوش گائیکی اور مٹی کی خوشبو سے بھرپور راجستھانی دھنوں کے ساتھ مامے خان راجیہ اتسو کا باوقار اختتام کریں گے۔









