بھوپال:30اکتوبر:آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی حفظہ اللہ نے نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میںنماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اکٹھا سیکڑوں اہل ایمان سے مخاطب ہوئے فرمایا کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کا بڑا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے ہم سب کو اپنی عبادت کیلئے ایک ساتھ مسجد میں جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔اللہ تا عمر ہم اہل ایمان کو یہ توفیق دیتا رہے(آمین)محترم حاضرین مسجد مذہب اسلام کی حقانیت و صداقت ،اس کا حسن ،اس کی ہمہ گیری اور ایک ایک امر پر باریک نگاہ اسے کائنات کا سب سے مقبول ترین اور تیزی سے بڑھنے والا مذہب بناتا ہے ۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے جملہ محاسن کے بارے میں جانیں تا کہ ہمارے دلوں میں ہمارے مذہب کی محبت مزید گہری ہو۔یہی وجہ ہے کہ میں مستقل گزشتہ کئی ہفتوں سے ’حقوق ‘ کے موضوع پر آپ حضرات سے باتیں کررہا ہوں ۔آج میں نے اپنا موضوع ’انسانی برادری‘ کے حقوق کو بنایا ہے ۔اسی کے ضمن میں اس مختصر وقت میں چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خاص دست شفقت سے بنایا ، انہیں عقل و شعور اور فہم و ادراک کا مادہ عطا کیا ، علم و فراست اورمختلف ممتاز خوبیاں دیں ، فرشتوں سے سجدہ تعظیمی کراکر اس بات سے آگاہ کیا کہ انسان کو بحیثیت انسان تمام خلائق پر فوقیت حاصل ہے ، اس کی عظمت و برتری کی کوئی بھی مخلوق ہمسری نہیں کرسکتی۔ انسا نیت کے اعتبار سے تمام اقوام عالم اس عظمت و شرافت میں برابر کے شریک ہیں اس لئے تمام انبیائے کرام نے اپنے پیرو کاروں کو ہدایت دی کہ وہ لوگ جو توحید و رسالت کے قائل نہیں اگرچہ اخروی اعتبار سے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا ہوگا تاہم وہ بھی آدم کی اولاد اور انسانی برادری میں شریک ہیں۔رحمت و شفقت ، ہمدردی ومحبت اور انسان کی بہترین اخلاقی قدروں سے انہیں دور رکھ کراللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں کی جاسکتی۔انسانیت کا یہ تصور تمام آسمانی مذاہب میں موجود ہے ، بالخصوص مذہب اسلام نے اس تصور کو مستحکم انداز میں پیش کیا ہے۔
دنیا داروں کے یہاں کالے گورے کا فرق ہوسکتا ہے اور ہے بھی لیکن اسلام کی نظر میں تمام انسان انسانیت کے اعتبار سے یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔رنگ و نسل ، قوم و وطن کے اعتبار سے تفریق جائز نہیں ، کمزوروں اور دبے کچلے لوگوں کا تعاونِ انسانی حق ہے اس لئے اسلام نے مذہب و مسلک اور رنگ و نسل سے اوپر اٹھ کر انسانی بنیادوں پر ہر مظلوم کے تعاون کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا : ’’اپنے بھا ئی کی مددکرو خوا ہ وہ ظا لم ہو یا مظلوم۔‘‘ (بخاری)
محدثین کی صراحت کے مطابق مظلوم میں مسلم اور غیر مسلم دونوں داخل ہیں۔ آ پ نے انہیں اولاد آدم کی حیثیت سے بھائی قرار دے کر رحم کے جذبات کو ابھارا ہے کہ انسانی اخوت کے رشتہ سے ہر مظلوم کا تعاون کیا جائے اور اس کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔ اسی انسانی اخوت کے سبب پڑوس میں بسنے والے یا کمپنی میں ساتھ کا م کرنے والے غیر مسلم کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کی گئی اور کسی مسلک و مذہب کی تفریق کے بغیر تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے برتنے کا حکم دیا گیا بلکہ بسوں اور ٹرینوں پر سفر کرتے ہو ئے کچھ دیر کے لئے جو ساتھی بن جاتے ہیں ، قرآن نے ان کے ساتھ بھی رواداری اورشیریںزبانی کی تعلیم دی ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ، علاقہ اور نسل سے تعلق رکھتے ہوں، اسلام کی نظر میں بس اتنا کافی ہے کہ وہ ایک انسان ہے۔ انسانیت کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے اور سماج کے تمام افراد اس کے شکار ہوتے ہیں اور سبھی مدد کے محتاج ہوتے ہیں ایسے وقت ساری مسلم ریلیف تنظیمیں صرف انسانی بنیادوں پر راحت رسانی کا کام کرتی ہیں اور کسی مذہبی تعصب کے بغیر جہاں تک ہوسکتا ہے ، تمام مصیبت زدہ افراد کی خدمت کی جاتی ہے۔غیر مسلم جماعتیں خواہ تعصب کی نظر سے دیکھیں یا تعاون کریں ، یہ ان کا اخلاق ہوسکتا ہے مگر اسلام نے اپنی تعلیمات کا مدار فراخدلی ، وسعت ظرفی اور صلہ رحمی پر رکھا ہے اور اسی کا اثر ہے کہ اسلام کے خلاف ہزار سازشوں کے باوجود اس کی لَو آج تک مدھم نہیں ہوئی بلکہ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد الحمد للہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔
عفت وعصمت کی حفاظت انسانی حق ہے اس لئے مسلمانوں کیلئے غیر مسلم اجنبی خواتین کی طرف غلط نگاہ ڈالنا اسی طرح حرام قرار دیا گیا ہے ، جس طرح مسلم غیر محرم عورتوں کی طرف ، گویا اسلامی نقطہ نظر سے مؤمن مرد و عورتوں کو جس طرح عزت وآبرو سے جینے کا حق حاصل ہے ، اسی طرح غیر مسلم اور نچلے طبقے کے افراد کو بھی عزت و آبرو اور باوقار زندگی بسر کرنے کا حق ہے اس لئے کہ اس کا تعلق انسانی اور بنیادی ضرورتوں سے ہے اور انسانیت میں سارے انسان برابر کے شریک ہیں۔ روایت میں ہے کہ حاتم طائی کی لڑکی سفانہ جب قید کرکے دربار رسالت میں لائی گئی تو اس کا سر برہنہ تھا۔ آپ نے اپنی مبارک چادر ایک صحابی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس بچی کا سرڈھانپ دو ، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ تو دشمن کی بیٹی ہے ، آپ کی وہ چادر مبارک جس پر عفت کی مہر لگی ہو کیونکر اس کے سرپر رکھی جاسکتی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیٹی بہر حال بیٹی ہوتی ہے ، دوست کی ہو یا دشمن کی۔‘‘ حاتم طائی کی بیٹی کا محض سر کھلا ہوا تھا ، آپ نے فوراًانسانی حقوق کے تحفظ کا سامان فراہم کیا اور رہتی دنیا تک انسانیت اور اخلاق کی بات کرنے والوں کو پیغام دیا کہ اسلام نے انسانی حقوق کی حفاظت کا جو نقشہ پیش کیا ہے ، در اصل اسی میں انسانیت کی حفاظت اور قدر ہے ، اس سے جداہوکر انسانیت کا فروغ تو کیا اس کی بقا بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو پانی پلانا انسان کے بنیادی حقوق میں سے ہے۔ شریعت اسلامی نے اس باب میں بھی مکمل وسعت ِظرفی کا ثبوت دیاہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم مسلمان اچھے اخلاق و کردار کے مظاہرے میں ہمیشہ اول نمبر پر رہیں اور یہ امید ہرگز نہ کریں کہ آپ کے اس اعلیٰ اخلاق کوہر فرد تحسین کی نگاہ سے دیکھے گا بس اس بات کی فکر رکھیں کہ آپ کا رب آپ کے بلند اخلاق کو تحسین کی نگاہ سے دیکھے،پھر تو آپ کامیاب ہیں۔









