بھوپال:03؍جون:گورنر مسٹر منگوبھائی پٹیل نے کہا کہ ہندی صحافت کا ابتدائی دور انتہائی چیلنجوں سے بھرپور تھا۔ محنتی صحافیوں نے برطانوی حکومت کی بے شمار مشکلات کے باوجود صحافت کے اصولوں اور پاکیزگی کو برقرار رکھا۔ نوجوان نسل کو ہندی صحافت کی اسی شاندار روایت سے تحریک حاصل کرنی چاہیے۔گورنر مسٹر پٹیل بدھ کے روز “ہندی صحافت دوی شتابدی مہوتسو، پرکھوں کو پرنام: پوسٹر نمائش” پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ پوسٹر نمائش کا انعقاد مادھوراؤ سپرے اسمرتی اخبار میوزیم و تحقیقاتی ادارہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ گورنر نے عظیم بزرگوں کی یاد میں اس قابلِ تقلید اقدام پر ادارے کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقع پر گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر نوَنیت موہن کوٹھاری بھی موجود تھے۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ تاریخی ہندی اخبارات و رسائل اور عہد ساز مدیران کی پوسٹر نمائش، صحافت کی شاندار تاریخ کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک ترغیب بخش کوشش ہے۔ نمائش کا انعقاد ان عہد ساز مدیران کی قربانی اور لگن کو زندہ صورت میں پیش کرتا ہے جنہوں نے قومی دھرم اور عوامی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ یہ نمائش دیکھنے والوں کے دلوں کو ان عظیم شخصیات کی ریاضت اور وابستگی کے لیے احترام سے بھر دیتی ہے۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ صحافت کوئی عام پیشہ نہیں، بلکہ یہ سماج کے تئیں ذمہ داری، سچائی کے تئیں وفاداری اور قوم کے تئیں وابستگی کی علامت ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہندی صحافت نے اپنے آغاز ہی سے محض خبروں کی ترسیل تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ سماج کو سمت دکھانے، رائے عامہ کو مضبوط بنانے اور قومی شعور کو بیدار کرنے کی مؤثر کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریک کے کٹھن دور میں بھی ہندی صحافت نے عوامی بیداری، سماجی اصلاح اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندی صحافت کی خدمات صرف تحریکِ آزادی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس نے ایک وسیع قارئین طبقہ تیار کیا اور علم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ہندی صحافت کو ڈیجیٹل ذرائع اور نوجوانوں سے جوڑنا ضروری
گورنر مسٹر منگوبھائی پٹیل نے کہا کہ ہندی صحافت آج بھی ہمارے جمہوری نظام کی جڑوں کو مضبوط بنانے، شہری شعور بیدار کرنے اور قوم کی تعمیر کے عمل میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہندی صحافت کو ویڈیو، پوڈکاسٹ، ویب سائٹ اور موبائل پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان نسل سے جوڑنا ضروری ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے اپیل کی کہ نوجوانوں کو صحافت کی ساکھ، سچائی پسندی اور غیر جانبداری جیسی اقدار سے روشناس کرائیں۔ ان میں جدت، مہارت کی ترقی اور سماجی ذمہ داری کے جذبات پیدا کریں۔ اپنی تحریروں کے ذریعے سماجی مسائل اور محروم طبقات کے تئیں حساسیت کو مضبوط بنائیں۔
گورنر نے سوانح عمری کی رونمائی پر اظہارِ تشکر کیا
پروگرام میں گورنر مسٹر منگوبھائی پٹیل کی زندگی پر مبنی کتاب “پیر پرائی جانے رے” کی رونمائی کی گئی۔ اس کتاب کو لوک بھون کی کنٹرولر محترمہ شلپی دیواکر نے تحریر کیا ہے اور اس کی طباعت و اشاعت مادھوراؤ سپرے میوزیم کی جانب سے کی گئی ہے۔ گورنر مسٹر پٹیل نے سوانح عمری کی تحریر اور اشاعت سے وابستہ تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
صحافت کی تاریخ انتہائی قدیم ہے: محترمہ رائے
میئر محترمہ مالتی رائے نے کہا کہ بھارت میں صحافت کی تاریخ انتہائی قدیم ہے۔ اس کا مشاہدہ ہماری علمی روایت میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گورنر مسٹر پٹیل کی عوامی فلاح و بہبود کی کوششوں میں ان کی فعالیت، تعاون اور حساسیت کو سراہا۔ سینئر صحافی اور مدیر مسٹر مہیش شریواستو نے صحافت کی بدلتی ہوئی صورت، تجارتی رجحانات اور دیگر چیلنجوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر نوَنیت موہن کوٹھاری نے کہا کہ ملک میں صحافت کی ایک مالا مال ثقافت موجود ہے۔ اس کی جھلک قدیم مذہبی متون سے لے کر جدید ترقیاتی سفر تک دیکھی جا سکتی ہے۔ مہابھارت کے کردار سنجے کو جدید براہِ راست نشریات کا پیش رو قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ دھرت راشٹر کو جنگ کی آنکھوں دیکھی کیفیت سناتے تھے۔ نارَد رشی عوامی فلاح کے لیے معلومات کے تبادلے کا کام کرتے تھے، اور آج کے صحافی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
گورنر مسٹر پٹیل کا مادھوراؤ سپرے اسمرتی اخبار میوزیم و تحقیقاتی ادارہ کے بانی مسٹر وجے دت شری دھر نے گلدستہ اور یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔ گورنر کو ہندی بھون کی جانب سے صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر شائع کیا گیا خصوصی شمارہ بھی پیش کیا گیا۔استقبالیہ خطاب مسٹر وجے دت شری دھر نے دیا۔ اظہارِ تشکر ڈاکٹر منگلا نے کیا۔ پروگرام میں لوک بھون کے افسران، محکمہ رابطہ عامہ کے ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈائریکٹر مسٹر سریش گپتا، ہندی صحافت سے وابستہ دانشور، صحافی اور ادب دوست افراد موجود تھے۔









