کولکاتا29جولائی: نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک کے خلاف کولکاتا میں ہونے والے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے 16 افراد کو بڑی راحت دیتے ہوئے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے 500-500 روپے کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دے دی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش بدستور جاری رہے گی اور ضمانت کا مطلب کیس کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ تمام گرفتاریاں 24 جولائی کو کولکاتا میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ کے بعد عمل میں آئی تھیں۔ اس مظاہرے کا انعقاد بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کیا تھا۔ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ گرفتار افراد میں خوانچہ فروش، مچھلی کاٹنے والے مزدور، چھوٹے تاجر، بے روزگار نوجوان اور مقامی سیاسی کارکن بھی شامل تھے۔ سماعت کے دوران دفاعی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے جنتر منتر پر چلائی گئی طلبہ تحریک کے منتظمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی کارروائی کی جائے گی۔
وکلا نے سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے درمیان اس اتفاق رائے کا بھی حوالہ دیا، جس کے مطابق پرامن احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ رعایت ایسے افراد پر لاگو نہیں ہوگی جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہو۔