بھوپال 29جولائی: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ بھارتی ثقافت میں فطرت اور تمام جنگلی جانوروں کے تئیں کشادہ دلی کا جذبہ شامل ہے۔ ہمارے دیوی دیوتاؤں کی سواریاں بھی مختلف جانداروں سے وابستہ ہیں۔ جنگل کا بادشاہ شیر، طاقت کی دیوی ماں درگا کی سواری ہے۔ ریاست میں شیر، چیتا، گھڑیال، ہاتھی اور جنگلی بھینسے سمیت دیگر جنگلی جانوروں کے تحفظ کی سمت میں متعدد اہم کام کیے گئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ریاست میں شیروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مدھیہ پردیش کو ٹائیگر اسٹیٹ کا درجہ حاصل ہے۔ ریاست میں 53 سال پہلے شیروں کی تعداد صرف دہائی کے ہندسے تک محدود رہ گئی تھی۔ سال 2016 میں شیروں کی تعداد تقریباً 250 ہو گئی۔ سال 2022 کی مردم شماری میں ریاست میں 785 شیر تھے۔ اگلے سال ہونے والی نئی مردم شماری میں شیروں کی تعداد 1000 سے زیادہ ہونے کا اندازہ ہے۔ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی رہنمائی میں مدھیہ پردیش میں بھرپور حیاتیاتی ورثے کا سنہرا اور خوشگوار دور مسلسل جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو عالمی یومِ شیر کے موقع پر کشابھاؤ ٹھاکرے آڈیٹوریم میں منعقدہ ریاستی سطح کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے چراغ روشن کر کے ریاستی سطح کے پروگرام کا افتتاح کیا۔ انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ کی سرگرمیوں پر مبنی نمائش کا افتتاح کر کے اس کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے فراہم کی گئی گاڑیوں کا بھی افتتاح کیا۔ پروگرام میں اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات نے شیر کے تحفظ پر مبنی رقص ڈرامہ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے محکمہ کی مطبوعات کے تحت ستل پورہ کی تتلیوں پر مبنی کتابسمیت دیگر کتابوں کی رونمائی کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے راتاپانی ٹائیگر ریزرو اور ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو کے لوگو کی بھی رونمائی کی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ستل پورا ٹائیگر ریزرو میں بارہ سنگھا کی دوبارہ آبادکاری پر مبنی دستاویزی فلم اور کانہا ٹائیگر ریزرو میں ٹائیگر ری وائلڈنگ پر مبنی دستاویزی فلموں کے ٹیزر جاری کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ریاستی جنگلی حیات بورڈ کے پدم شری اعزاز یافتہ اراکین ڈاکٹر نارائن ویاس اور مسٹر موہن ناگر کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جنگلی حیات کے تحفظ کے میدان میں نمایاں کام کرنے والی جنگلاتی تحفظ کمیٹیوں، ایکو ڈیولپمنٹ کمیٹی، گرام جنگل کمیٹی اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو بھی انعامات سے نوازا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو کی جانب سے عوامی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی “ایک جن-ایک پتی، عوامی شراکت داری، تحفظ کی طاقت” مہم میں حصہ لیا۔
اس کے تحت انہوں نے پتے کی شکل والی ایک چھوٹی کچی سیرامک ٹائل پر شیر کا چہرہ نقش کیا۔ اس قسم کی ٹائلوں کو پکا کر مختلف رنگوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ انہی ٹائلوں سے ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو کے ہینوتی سیاحتی دروازے کو سجایا جائے گا۔ یہ سرگرمی عوامی شراکت داری کے ذریعے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کی علامت بنے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کو پینچ ٹائیگر ریزرو کے فنکاروں نے کشیدہ کاری والی شال پیش کی۔
گھڑیال کے تحفظ کی سمت میں اہم کوششیں
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے عالمی یومِ شیر اور گرو پورنیما کی مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش شیر کے تحفظ کے میدان میں اپنی کامیاب کوششوں اور غیر متزلزل عزم کے باعث ملک بھر میں منفرد شناخت رکھتا ہے۔ شیر ہمارے سرسبز جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہیں۔ ریاستی حکومت عوامی شراکت داری کے ذریعے فطرت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے پْرعزم ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ چمبل ایشیا کی سب سے صاف پانی والی ندی ہے۔ یہاں گھڑیال کے تحفظ کی سمت میں اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ کونو علاقے کی ندیوں میں بھی گھڑیال چھوڑے گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں ایک سو سال پہلے ناپید ہو چکے جنگلی بھینسوں کی دوبارہ آبادکاری کا کام کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی کوششوں سے ہاتھیوں کے بحران سے نجات
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ دو سال پہلے تک ہاتھیوں کی وجہ سے خوفناک خبریں موصول ہوتی تھیں۔ محکمہ? جنگلات نے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی کوششوں کے ذریعے ہاتھیوں کے بحران سے نجات دلائی ہے۔ ریاست میں بہت جلد گینڈے بھی لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کو بھرپور حیاتیاتی تنوع ورثے میں ملا ہے۔ محکمہ? جنگلات نے جنگلات کے انتظام میں اپنے افسران و ملازمین کے ساتھ جنگلاتی کمیٹیوں اور مقامی دیہاتیوں کو شامل کر کے ریاست کو جنگلی حیات کے تحفظ میں نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
ریاست میں ہر سال 28 لاکھ جنگلی حیات کے سیاح آتے ہیں
چیف پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف) محترمہ سمیتا راجورا نے کہا کہ روس میں کیے گئے عہد کے بعد سال 2011 سے ہر سال 29 جولائی کو عالمی یومِ شیر منایا جا رہا ہے۔ شیروں کے تحفظ میں مدھیہ پردیش کا اہم کردار رہا ہے۔ ریاستی حکومت تمام جنگلی جانوروں کے تحفظ کا عہد لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں ہر سال 28 لاکھ جنگلی حیات کے سیاح آتے ہیں، جن میں ایک لاکھ غیر ملکی بھی شامل ہوتے ہیں۔ ریاست کے تمام 9 ٹائیگر ریزروز میں اس وقت شیر کے تحفظ سے متعلق مختلف سرگرمیاں جاری ہیں۔ شیر کے تحفظ کی مہم میں جنگلاتی کمیٹیوں اور مقامی لوگوں کا بھی خاص تعاون ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں مدھیہ پردیش میں شیروں کے ساتھ تمام جنگلی جانوروں کا تحفظ ہو رہا ہے۔ اگر شیر محفوظ رہیں گے تو ہمارے جنگلات بھی محفوظ رہیں گے۔
جنگلی حیات کے تحفظ میں مدھیہ پردیش کا نام ملک اور دنیا میں روشن ہو رہا ہے
چیف پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ اور ہیڈ آف فاریسٹ فورس مسٹر شبھرنجن سین نے کہا کہ مدھیہ پردیش ٹائیگر اسٹیٹ ہے۔ ریاست میں شیروں اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ مدھیہ پردیش اب چیتا اسٹیٹ اور لیپرڈ اسٹیٹ بھی بن چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کی سمت میں متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے نئے ٹائیگر ریزرو کے قیام اور ریاست کے واحد کنزرویشن ریزرو کی بھی تشکیل کی ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ میں مدھیہ پردیش کا نام ملک اور دنیا میں روشن ہو رہا ہے۔ پروگرام میں پرنسپل سیکریٹری جنگلات مسٹر راگھویندر سنگھ، محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین، جنگلاتی کمیٹیوں کے ارکان، بڑی تعداد میں طلبہ اور جنگلات و جنگلی حیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد موجود تھے۔