حیدرآباد19ستمبر: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ایک بار پھر سابق چیف منسٹر اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ جنہیں کے سی آر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بہار کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا ہے۔ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ کے سی آر بہار سے آنے کے بعد سے تلنگانہ کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریونت ریڈی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ان کی حکومت نے ایراولی میں کے سی آر کے فارم ہاؤس سے وابستہ اراضی کی تحقیقات شروع کی ہے۔ تقریباً 700 ایکڑ اراضی کے ریکارڈ اور سرکاری اراضی سے متعلق دعووں کی چھان بین کے لیے افسران کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے۔
ریونت ریڈی کا کے سی آر کو بہار سے جوڑنے کا بیان نیا نہیں ہے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ڈی این اے تلنگانہ سے ہے جبکہ کے سی آر کا ڈی این اے بہار سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کے سی آر کے آباؤ اجداد نے بہار سے تلنگانہ ہجرت کی ۔انہوں نے تلنگانہ کے ڈی این اے کو بہتر بتایا۔ اس بیان نے بہار میں ایک سیاسی تنازعہ کو جنم دیا اور بی جے پی اور جے ڈی یو سمیت کئی لیڈروں نے ریونت ریڈی پر تنقید کی تھی۔
اس بار ریونت ریڈی نے اپنے حملے کو زمینی الزامات سے جوڑا ہے۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں کہا کہ ایراولی میں کے سی آر کے فارم ہاؤس سے وابستہ تقریباً 700 ایکڑ اراضی کی جانچ ہونی چاہئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں 388 ایکڑ سرکاری زمین بھی شامل ہے۔ انہوں نے محکمہ ریونیو اور ضلع کلکٹر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے زمین کی اصل خرید، قبضے اور ریکارڈ کی چھان بین کرنے کو کہا ہے۔ ریونت کا الزام ہے کہ کے سی آر نے بہار سے آکر تلنگانہ کو لوٹا۔