نئی دہلی 29جولائی : لوک سبھا میں ہنگامے کے درمیان اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل، 2026، منظور ہو گیا۔ یہ بل طویل بحث کے بعد صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے بیان پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ بحث کے دوران حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تیکھی نو ک جھونک ہوئی ۔ اینٹی پیپر لیک بل کی منظوری کے بعد اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی 30 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردی۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بل پر بحث کرنے اور تجاویز پیش کرنے کے بجائے اپوزیشن سیاست کر رہی ہے۔ جتیندر سنگھ نے کہا، “اپوزیشن کا طرز عمل انتہائی مایوس کن ہے، ایسے سنجیدہ اور اہم بل پر تعمیری تجاویز پیش کرنے کے بجائے، جو کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، اپوزیشن سیاست کر رہی ہے، اپوزیشن لیڈر کی جانب سے استعمال کی گئی زبان نہ صرف غیر پارلیمانی تھی بلکہ اتنی نامناسب تھی کہ میں اسے دہرانا بھی نہیں چاہوں گا ” جان لیں کہ ایسی زبان ایوان میں استعمال نہیں ہو سکتی۔ قبل ازیں ایوان زیریں میں پیپر لیک مخالف بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے امتحانی نظام اور طلبہ کے مسائل پر بات کی اور حکومت پر نوجوانوں کی آواز کو زبردستی دبانے کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی کے الزامات پر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے جوابی حملہ کیا۔ لوک سبھا کی کارروائی سہ پہر 3 بجے دوبارہ شروع ہوئی تو حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا، “راہول گاندھی کا بیان قابل اعتراض ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔گلی چلانے کا حکم وزیر نہیں، ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ دیتے ہیں۔