ممبئی 3جون: مہاراشٹر میں لاڈکی بہن یوجنا کو لے کر سیاسی تنازعہ کے درمیان شیو سینا (یو بی ٹی) نے مہایوتی حکومت پر خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاست میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے خواتین کو مالی فوائد دے کر ان کے ووٹ حاصل کیے اور اسی بنیاد پر اقتدار تک پہنچی۔ اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے کہا ہے کہ ای-کے وائی سی عمل کے بعد وزیر اعلیٰ ماجھی لاڈکی بہن یوجنا کے تقریباً 80 لاکھ مستفیدین کو نااہل قرار دیا جانا سنگین معاملہ ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی جانچ ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج سے کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ مہایوتی اتحاد کے رہنماؤں دیویندر فڈنویس، ایکناتھ شندے اور اجیت پوار نے اسمبلی انتخابات سے قبل لاڈکی بہن یوجنا کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت تقریباً 2.38 کروڑ خواتین کو ماہانہ 1500 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ اس اسکیم کو انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے مطابق ای-کے وائی سی کی بنیاد پر 80 لاکھ خواتین کو نااہل قرار دیے جانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ خواتین واقعی اہل نہیں تھیں تو انہیں سرکاری خزانے سے رقم کیوں دی گئی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ انتخابی فائدے کے لیے بغیر مناسب جانچ کے ہزاروں کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔ اداریے میں کہا گیا کہ دسمبر 2024 تک اس اسکیم کے تحت 17 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم تقسیم کی جا چکی تھی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ اگر رقم کی تقسیم غیر قانونی ثابت ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ان افراد پر عائد ہونی چاہیے جنہوں نے یہ فیصلے کیے، نہ کہ ان خواتین پر جنہوں نے اسکیم سے فائدہ حاصل کیا۔









