نئی دہلی10جولائی: آسٹریلیا کے میلبورن میں ہندوستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی بدلتی ہوئی عالمی شناخت اور ترقی کی رفتار کے بارے میں ایک طاقتور پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جہاں بھی جاتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں بلکہ محبت، محنت اور ثقافت کی مٹھاس بھی چھوڑتے ہیں جو پوری دنیا کو جوڑتی ہے۔ ہندوستانیوں کا دودھ میں گھلنے والی چینی سے موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ گھریلو دودھ اور سبزیاں آسٹریلوی ہو سکتی ہیں لیکن ان سے بنی چائے اور کھانے کا اصل ذائقہ ہندوستانی ثقافت اور مصالحوں سے آتا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا، “ہم ہندوستانی دودھ میں گھل جانے والی چینی کی طرح ہیں جو اسے مزید میٹھا بناتے ہیں۔ ہم ہندوستانی اپنی محبت کی مٹھاس پوری دنیا میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ گھر میں دودھ بھلے ہیہ آسٹریلیا کا ہو ، لیکن اس سے بنی چائے ہندوستانی ہوتی ہے ۔ دال اور سبزیاں آسٹریلیا کی ہوتی ہے، پھر بھی ان میں ہندوستانی مصالحوں کا تڑکا لگایا جاتا ہے ۔” پی ایم مودی نے کہا کہ 21ویں صدی کا ہندوستان اب صرف ایک صارف نہیں ہے، بلکہ عالمی اختراعات اور مینوفیکچرنگ کا مرکز بن رہا ہے۔ چپس سے جہاز تک ایک مضبوط مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام، 6G ٹیکنالوجی پر تیز رفتار ترقی اور 200,000 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کے ساتھ، ہندوستان دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے طور پر نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔









