بھوپال:22؍اکتوبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی باصلاحیت قیادت اور دور اندیش رہنمائی میں مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ برائے پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود نے یوتھ ویلفیئر اور جدت طرازی کی سمت میں ایک نئی اور بے مثال تاریخ رچی ہے۔ باندرہ-کرلا کمپلیکس، ممبئی میں واقع نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں منعقدہ تقریب میں بھارت کے پہلے ’سوشل امپیکٹ بانڈ فریم ورک پروجیکٹ‘ کے تحت این ایس ای-سوشل اسٹاک ایکسچینج پلیٹ فارم پر باضابطہ لسٹنگ، بیل رنگنگ تقریب اور سہ فریقی مفاہمت نامہ (MoU) پر دستخط کیے گئے۔
وزیر مملکت پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود (آزادانہ چارج) محترمہ کرشنا گوڑ نے کہا کہ ریاست اور محکمہ کے لیے یہ انتہائی فخر کا موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی منشا کے مطابق سماجی بہبود کی اسکیموں کے شفاف اور مؤثر مالیاتی نظام کے لیے سوشل اسٹاک ایکسچینج کا کامیاب نفاذ کرنے والی مدھیہ پردیش ملک کی پہلی اور سرکردہ ریاست بن گئی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کا محکمہ برائے پس ماندہ طبقات و اقلیتی بہبود اس جدید ‘سوشل امپیکٹ بانڈ’ مالیاتی ماڈل کے ذریعے طلباء کی بہبود کی سمت میں قدم اٹھانے والا ملک کا پہلا محکمہ بنا ہے۔وزیرمملکت محترمہ گور نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت، نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن، نابارڈ اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کی مشترکہ اور مربوط کوششوں سے یہ اہم پروجیکٹ سچ ثابت ہوا ہے۔ اسکیم کے ذریعے ریاست کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے دیگر پس ماندہ طبقات (او بی سی) کے 600 ہونہار نوجوانوں کو (300 نوجوان جاپان اور 300 نوجوان جرمنی) معیاری رہائشی فنی تربیت، متعلقہ ملک کی زبان کی مکمل معلومات اور مخصوص پیشہورانہ تربیت فراہم کر کے ترقی یافتہ ممالک میں بین الاقوامی روزگار کے سنہرے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروجیکٹ کے ایشو کو سرمایہ کاروں کی طرف سے اوور سبسکرائب کیا جانا اس کی مصدقہ حیثیت اور عوامی اعتماد کا براہ راست ثبوت ہے۔ نوجوانوں کو عالمی سطح پر باوقار روزگار ملنے سے ان میں خودداری، خود اعتمادی اور خود کفالت کا جذبہ مضبوط ہوگا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے ویژن کے مطابق، اس پورے پروجیکٹ کا مالیاتی نظام سوشل اسٹاک ایکسچینج پر رجسٹرڈ زیرو کوپن زیرو پرنسپل انسٹرومنٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم مکمل طور پر نتائج پر مبنی ہے، جس میں کل تربیتی فیس کا 50 فیصد حصہ مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعے آؤٹ کم فنڈر کے طور پر برداشت کیا جائے گا، 35 فیصد حصہ سوشل امپیکٹ بانڈ کے ذریعے منظم ہوگا، نیز بقایا 15 فیصد رقم متعلقہ او بی سی مستفید نوجوان کے ذریعے برداشت کی جائے گی۔
اسکیم کی شفافیت اور مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے مجاز خود مختار تھرڈ پارٹی کے ذریعے ‘سوشل امپیکٹ اسیسمنٹ(سماجی اثرات کا جائزہ) کیا جائے گا۔ مثبت جائزہ رپورٹ ملنے اور متعلقہ نوجوان کے کامیابی کے ساتھ بیرون ملک میں روزگار حاصل کر لینے پر ہی ریاستی حکومت کی طرف سے این ایس ڈی سی کو 50 فیصد رقم کی ادائیگی کی جائے گی؛ بصورت دیگر ریاستی حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں آئے گا۔
اور تمام مالیاتی خطرہ این ایس ڈی سی (رسک فنڈر) کا ہوگا۔
اس دور اندیش نقطہ نظر اور جدید کوشش سے ریاست کے پس ماندہ طبقات کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر پہچان ملے گی اور مدھیہ پردیش اسکل ڈیولپمنٹ اور یوتھ ویلفیئر کے شعبے میں پورے ملک کے لیے ایک مثالی نمونہ پیش کرے گا۔