بھوپال 22اکتوبر: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی نے سال 2040 تک کیمیکل اور فرٹیلائزر سے جڑے تجارتی کاروبار کا ٹرن اوور 1 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا عزم ملک کے سامنے رکھا ہے۔ اس عزم کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے ملک کی تمام ریاستی حکومتیں صحت مند مقابلے کے ساتھ مرکزی حکومت کے ساتھ تیزی سے قدم سے قدم ملا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرو کیمیکلز، پیٹرو پولیمرس، فرٹیلائزر، مختلف قسم کے کیمیکلز اور دوائیوں کی تیاری کے لیے مدھیہ پردیش میں متعدد مواقع دستیاب ہیں۔ ہم نے ایم پی میں سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی آسان، آسان فہم اور شفاف نظام قائم کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو جمعرات کو ممبئی کے بمبے ایگزیبیشن سنٹر میں جاری تین روزہ ‘انڈیا کیم 2026’ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کیمیکل اور فرٹیلائزر کے شعبے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند تمام سرمایہ کاروں کو ہم پوری سہولت، ساتھ، تعاون، تحفظ دے کر ہر ضروری مدد کرنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں۔ سرمایہ کار بغیر کسی جھجھک کے ایم پی میں سرمایہ کاری کریں اور یہاں کے مواقع اور صنعت دوست پالیسیوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مدھیہ پردیش کو کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت کے اہم ‘گلوبل ہب کے طور پر قائم کرنے کے ریاستی حکومت کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے ملک اور بیرون ملک کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو سال 2027 میں ہونے والی ‘گلوبل انوسٹرس سمٹ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔ اس سال انڈیا کیم – 2026 کا موضوع ‘اڈوانٹیج بھارت – این امرجنگ گلوبل کیمیکلز ہب رکھا گیا ہے۔ یہ تقریب 24 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، گجرات، مہاراشٹر، اوڈیشہ، راجستھان، تمل ناڈو اور مغربی بنگال اس بار اسٹیٹ پارٹنرز کے طور پر انڈیا کیم سے جڑے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ بینا مدھیہ پردیش کی پیٹرو کیمیکل صنعت کا نیا گڑھ بن رہا ہے۔ وزیر اعظم شری نریندر مودی کے ذریعہ ساگر ضلع کے بینا میں تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے ڈائمنڈ اسٹریم پیٹرو کیمیکل یونٹ کا بھومی پوجن کیا جا چکا ہے۔ یہاں ہر سال 22 لاکھ ٹن سے زیادہ پیٹرو کیمیکل مصنوعات تیار ہوں گی۔ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کی تقریباً 49 ہزار کروڑ روپے کی ایتھیلین کریکر اور ریفائنری توسیعی پروجیکٹ بھی وسطی ہند میں پیٹرو کیمیکل پر مبنی صنعتوں کے لیے مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے انڈین آئل، ریلائنس اور ہلدیہ پیٹرو کیمیکلز جیسی کمپنیوں سے بینا کے آس پاس پولیمر پروسیسنگ اور تقسیم کے امکانات تلاش کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ صرف بڑے پروجیکٹوں تک محدود نہ رہ کر ریاست میں پولیمر پروسیسنگ کا مضبوط کلسٹر تیار کیا جائے گا، تاکہ ایم ایس ایم ای بھی ساتھ ساتھ مضبوط ہوں۔ اسی سمت میں رائے سن کے تاموٹ میں 121 ایکڑ اور گوالیار کے بلؤا میں 93 ایکڑ میں جدید پلاسٹک پارک تیار کیے گئے ہیں۔ تاموٹ میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سیپیٹ) کا جدید پلاسٹک پروڈکٹ سیمولیشن اینڈ اسسمنٹ سنٹر بھی قائم ہے۔ دھار میں تیار ہو رہے پی ایم مِتر ٹیکسٹائل پارک سے ٹیکسٹائل کے ساتھ پولیمر، کیمیکل اور معاون صنعتوں کے لیے بھی مواقع بنیں گے۔
گیس پر مبنی صنعتوں کے لیے وجے پور کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہاں گیل کا جدید گیس پروسیسنگ ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے، جس کی 2 گیس پروسیسنگ یونٹیں ہیں۔ یہاں 10 میگاواٹ صلاحیت کا گرین ہائیڈروجن پلانٹ بھی قائم ہے، جس کی پیداواری صلاحیت یومیہ 4.3 ٹن ہے۔ سیہور ضلع کے آشٹہ میں گیل انڈیا کے پیٹرو کیمیکل پروجیکٹ کو بھی انہوں نے اہم بتایا۔ ناگدا میں گراسم انڈسٹریز کا وسیع صنعتی احاطہ ریاست کی کیمیکل صنعت کی صلاحیت کی براہ راست مثال ہے۔
ایگری کیمیکل، اسپیشلٹی کیمیکل اور برآمدی صنعتوں کو دعوت
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے یو پی ایل، پی آئی انڈسٹریز، دھنوکا اور سنجنٹا جیسی کمپنیوں سے مدھیہ پردیش کو صرف مارکیٹ نہیں، مینوفیکچرنگ کے لیے بھی منتخب کرنے کی اپیل کی۔ دیپک نائٹرائٹ اور آرتی انڈسٹریز سے انہوں نے اسپیشلٹی کیمیکل کے شعبے میں نئی اکائیوں اور ان کی توسیع پر بھی کھل کر غور کرنے کو کہا۔ کیمیکسِل اور برآمد کنندگان کے ساتھ خصوصی بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔ عالمی کمپنیوں میں بی اے ایس ایف، ڈاؤ، آرکیما، لینکسی اور مٹسوبیشی کیمیکل سے انہوں نے ‘فیوچر گروتھ کے کے 1 اسٹریٹجی’ کے تحت مدھیہ پردیش کے امکانات کا گہرائی سے جائزہ لینے کی اپیل کی۔