نئی دہلی 4نومبر: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 2 سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو سزا دینے سے متعلق قوانین اب اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔ ملک میں شرح افزائش میں تیزی سے کمی کو دیکھتے ہوئے ان قوانین پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 2 سے زیادہ بچہ پیدا ہونے پر پنچایت کا رکن بننے کے لیے نااہل قرار دینے والے مہاراشٹر کے ایک قانون پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ تبصرہ کیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب کئی ریاستوں میں شرح افزائش کم ہو رہی ہے تو آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی پالیسی کو جاری رکھنے کا کیا جواز ہے؟ سپریم کورٹ کے 2 ججوں کی بنچ نے اس معاملے کو 3 ججوں کی بنچ کے پاس بھیجتے ہوئے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ آج کی نسل میں 3 بچے ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اب تو کنبے میں صرف ایک ہی بچہ ہوتا ہے۔ اس پالیسی کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ انتخابات میں مخالف امیدوار اس پالیسی کو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں اس پر تشویش ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان قوانین کی بنیاد بڑھتی ہوئی آبادی کے تئیں تشویش تھی، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ 2003 میں ہندوستان کی مجموعی شرح افزائشِ نسل (ٹی ایف آر) 3 تھی، جو اب گھٹ کر 1.9 رہ گئی ہے۔ 2.1 کی شرح کو متبادل شرح افزائش (ریپلیسمنٹ ریٹ) کہا جاتا ہے۔
2 ججوں کی بنچ نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی اگرچہ ابھی کم نہیں ہو رہی ہے، لیکن شرح افزائش نسل کے متبادل شرح سے نیچے جانے کے اثرات آنے والے وقت میں نظر آئیں گے۔ اس سے بزرگوں کی آبادی میں اضافہ ہوگا اور کام کرنے کی عمر والے افراد کا تناسب کم ہو جائے گا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر نہیں رکھا گیا تو ملک کو سنگین نتائج برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں۔ یہ معاملہ مہاراشٹر کی سابق سرپنچ منگلا بھیم راؤ انگلے کی عرضی سے متعلق ہے۔ انہوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں 2 سے زیادہ بچے ہونے کی بنیاد پر ان کی نااہلی برقرار رکھی گئی تھی۔









