بھوپال 4نومبر: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں مدھیہ پردیش مسلسل ترقی کے نئے پیمانے قائم کر رہا ہے۔ کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور غریبوں سمیت سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی حکومت عزم بستہ ہے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور خوشحالی کے لیے حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کے روز پانڈھورنا میں منعقدہ بلرام زرعی میلے سے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے ورچوئلی خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال میں بلرام زرعی میلے کے ذریعے کسانوں کو جدید زرعی تکنیک، قدرتی کھیتی اور کسانوں کے مفاد کی اسکیموں سے جوڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ پانڈھورنا ضلع گیہوں، مکئی، چنا، تور اور سنترے کی پیداوار کے لیے اہم ہے۔ یہاں کھیتی باڑی کے ساتھ کسانوں کی آمدنی اور دودھ کی پیداوار میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کم بارش کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سروے کرایا جا رہا ہے۔ کسانوں کو ہر ممکن مدد اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پانڈھورنا ضلع کے انچارج وزیر مسٹر پردیومن سنگھ تومر نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ پانڈھورنا ضلع کھیتی کے ساتھ زرعی مصنوعات کی تیاری میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ضلع میں قائم مختلف زراعت پر مبنی اکائیوں سے نوجوانوں کو روزگار مل رہا ہے۔ انہوں نے دیہی باشندوں کو ان کی جائیداد کی مفت رجسٹری کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا شکریہ ادا کیا۔
مدھیہ پردیش اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ایڈمنسٹریٹر مسٹر مہندر سنگھ یادو نے کسانوں کو جدید اور ترقی یافتہ کھیتی کے نئے طریقوں سے جوڑنے اور بلرام جینتی کو ’کسان دیوس‘ قرار دینے کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا شکریہ ادا کیا۔
بلرام زرعی میلے میں ضلع کے ترقی پسند کسانوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو سے بات چیت کرتے ہوئے کھیتی باڑی میں کیے جا رہے نئے تجربات اور اپنی کامیابی کے تجربات شیئر کیے۔ گاؤں بھمّا، ترقیاتی بلاک سونسر کے کسان مسٹر مٹرو لال ڈونگرے نے بتایا کہ وہ قدرتی کھیتی کے ذریعے ہلدی، ارہر اور گیہوں کی پیداوار کر رہے ہیں۔ وہ مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کر کے ہر سال 2 سے 2.5 لاکھ روپے کا خالص منافع حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی قدرتی مصنوعات جاپان اور آسٹریلیا تک پہنچ رہی ہیں۔ گاؤں تگاؤں کے کسان مسٹر نریندر ٹھاکرے نے بتایا کہ وہ 16 ایکڑ میں سنترے کی پیداوار کر کے ہر سال 15 سے 20 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی وہ مویشی پروری اور سبزیوں کی پیداوار بھی کر رہے ہیں۔ گاؤں پارڈسنگا کی محترمہ روشنی نروارے نے بتایا کہ وہ 14 گاؤں کی 350 خواتین کو جوڑ کر دیسی کپاس سے کھادی، سیڈ بال اور سیڈ جیولری تیار کروا رہی ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ان مصنوعات کی فروخت کر کے خواتین اچھی آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔









