بھوپال:20؍مئی:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ گرام روزگار معاونین دیہی ترقی اور گاؤں کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کردار ہنومان کی طرح ہوتا ہے۔ ریاستی حکومت گرام روزگار معاونین کے مفادات کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو بھوپال کے جمبوری میدان میں منعقد گرام روزگار معاونین کی ریاستی سطح کی عظیم کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ روزگار معاون ریاست کی گرام پنچایتوں میں ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔ وزیرِ اعظم مسٹر مودی کے ڈیجیٹل انڈیا کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں گرام روزگار معاونین کا اہم کردار ہے۔ گرام روزگار معاونین اس اہم کام کے رہنما ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ بھارت کی روح دیہات میں بستی ہے۔ انہوں نے گرام سوراج کا خواب دیکھا تھا۔ ہمارے وزیرِ اعظم مسٹر مودی نے ڈی بی ٹی نظام نافذ کرکے اسے مقبول بنایا ہے۔ مستحقین تک سرکاری اسکیموں کی رقم پہنچانے کا کام اسی طریقے سے ہو رہا ہے، جس کا سہرا روزگار معاونین اور پنچایت سیکریٹریوں کو جاتا ہے۔ حکومت اور عوام کے لیے کام کرتے ہوئے یہی طبقہ اپنی ذہانت، بہادری، محنت اور مہارت سے سماج کے لیے مثالی نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ کئی ناممکن کام بھی انجام دے دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے زمینی سطح پر ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وہ سماج کے غریب اور ضرورت مند افراد، جو سماج کی آخری صف میں کھڑے ہیں، انہیں فائدہ پہنچانے میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
خواتین، کسان، نوجوانوں اور غریبوں کی فلاح میں گرام معاونین کا اہم کردار
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیرِ اعظم مسٹر مودی خواتین، کسانوں، نوجوانوں اور غریبوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ گرام معاونین کا کردار بھی ان طبقات کی ترقی میں محنت اور خدمت کی مثال کے طور پر نظر آتا ہے۔ گرام معاونین اور پنچایت سیکریٹری اپنی حکمت اور ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی اہم اسکیموں جیسے وی بی جی-رام-جی (وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن) کے نفاذ اور عوام کے مختلف مسائل کے حل کی راہیں نکالتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس موقع پر گیہوں خریداری کے کام میں بھی گرام معاونین کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاست میں جن کسانوں کی خریداری کے لیے 23 مئی تک سلاٹ بک تھے، ان کے لیے ضرورت کے مطابق خریداری کا عمل 28 مئی تک بڑھانے کا انتظام کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش پانی کے تحفظ اور فروغ کے کاموں میں ملک میں آگے ہے۔ ریاست کو گرام معاونین کی محنت کی وجہ سے اس کام میں پہلا مقام حاصل کرنے کا اعزاز ملا ہے۔ کنوؤں، باولیوں، تالابوں اور ندیوں کو کارآمد بنانے، عوام کو پانی بچانے اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ترغیب دینے میں گرام معاونین پوری لگن سے کام کر رہے ہیں۔
گرام معاونین کی فکر کرے گی ریاستی حکومت
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ گرام سیکریٹریوں کے مشاہرے میں اضافہ اور انہیں دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت پوری سنجیدگی سے ضروری اقدامات کرے گی۔ اس سے پہلے بھی ان کے معاوضے کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ گرام معاونین کے مفاد میں عوامی نمائندوں اور تنظیمی عہدیداران کے ساتھ مشاورت کرکے ضروری فیصلے لیے جائیں گے۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس عظیم کانفرنس میں شرکت کے لیے بھوپال آ رہے دو گرام معاونین مسٹر مینا اور مسٹر لکھن کی حادثے میں ناوقت وفات کی خبر نہایت افسوسناک ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بابا مہاکال سے مرحومین کی روح کے سکون کے لیے دعا کرتے ہوئے دونوں کے اہلِ خانہ کو 10-10 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی شدید زخمی افراد کے لیے 1 لاکھ روپے اور دیگر معمولی زخمیوں کے علاج کے لیے 50-50 ہزار روپے کی امداد دینے کا بھی اعلان کیا۔
کانفرنس میں مدھیہ پردیش ریاستی ملازمین فلاح کمیٹی کے صدر مسٹر رمیش چندر شرما، بھارتی مزدور سنگھ کے جنرل سیکریٹری مسٹر کلدیپ گرجَر کے علاوہ مسٹر روی بھٹ، مسٹر راکیش پنڈیا اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔









