بھوپال:20؍مئی:گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے کہا کہ سکل سیل اینیمیا جیسی سنگین موروثی بیماری کے خاتمے میں بیداری اور عوامی شراکت سب سے زیادہ اہم ہے۔ بروقت جانچ اور مناسب علاج سے اس بیماری کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ معلومات کی کمی کے باعث یہ بیماری والدین سے بچوں تک منتقل ہو جاتی ہے، لیکن بیداری، تعاون اور احتیاط کے ذریعے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ گورنر مسٹر پٹیل بدھ کے روز بیتول کے بھیم پور میں سکل سیل صحت کیمپ اور مستحقین میں فوائد کی تقسیم کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مسٹر درگاداس اْئیکے بھی موجود تھے۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی نے سال 2047 تک بھارت کو سکل سیل سے پاک بنانے کا عزم لیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر اس سمت میں سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 7 کروڑ سے زیادہ اسکریننگ کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پروگرام اسی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔ گورنر مسٹر پٹیل نے بیتول ضلع میں سکل سیل کے خاتمے کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے ‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کے پریاس’’ کے عزم کے ساتھ سکل سیل کے خاتمے کی اپیل کی۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ کوئی بھی بچہ سکل سیل سے متاثر نہ ہو، اس کے لیے شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے ہیلتھ کارڈ کا موازنہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سکل سیل کے خاتمے کے لیے ایلوپیتھی، آیوروید اور ہومیوپیتھی میں تحقیق اور علاج کی کوششیں جاری ہیں۔ گورنر مسٹر پٹیل نے سکل سیل اور ٹی بی کے مریضوں کو تیل والی اور فاسٹ فوڈ اشیاء نہ کھانے، غذائیت بخش خوراک لینے، باقاعدہ ورزش کرنے اور منظم طرزِ زندگی اپنانے کا مشورہ دیا۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ قبائلی برادریوں کی ترقی کے لیے پردھان منتری جن من یوجنا کے تحت بیگا، سہریا اور بھاریا جیسی خصوصی پسماندہ قبائل کی ترقی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دھرتی آبا قبائلی گرام اْتکرش یوجنا قبائلی دیہات میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور بنیادی سہولیات کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں کا نقشہ تیار کرکے حکومت کی کوششوں کو ضروریات کے مطابق پہنچانے کی ہدایت دی۔ گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ تعلیم ہی ترقی اور کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بیٹیوں کو ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم تک مساوی مواقع اور معیاری تعلیم ملنی چاہیے۔ انہوں نے تمام والدین سے اپنے بچوں، خصوصاً بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلانے کی اپیل کی۔
مرکزی وزیر برائے قبائلی امور مسٹر درگاداس اْئیکے نے کہا کہ بھیم پور میں سکل سیل جانچ مشین کا افتتاح قبائلی اور محروم طبقات کو بہتر صحت سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ مرکزی وزیر مسٹر اْئیکے نے گورنر مسٹر پٹیل کی قیادت میں مدھیہ پردیش میں جاری سکل سیل بیداری اور خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی۔
سکل سیل اور تھیلیسیمیا جانچ مشین ‘‘گجیل’’ کا افتتاح
گورنر پٹیل نے پروگرام میں سکل سیل اینیمیا اور تھیلیسیمیا کی جانچ کے لیے جدید مشین ‘‘گجیل’’ کا افتتاح کیا۔ گورنر مسٹر پٹیل کو بتایا گیا کہ یہ مشین قبائلی اکثریتی بھیم پور کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں نصب کی جائے گی۔ یہ مشین سکل سیل اینیمیا اور تھیلیسیمیا جیسی موروثی خون کی بیماریوں کی فوری اور درست جانچ میں معاون ثابت ہوگی۔
‘‘مشن رانی’’ مہم کا آغاز
گورنر مسٹر پٹیل نے پروگرام میں ‘‘مشن رانی’’ مہم کا بھی آغاز کیا۔ اس مہم میں محکمہ صحت، خواتین و اطفال کی ترقی اور قبائلی امور کے محکمے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ یہ مہم خواتین، نوعمر لڑکیوں اور حاملہ خواتین میں اینیمیا پر قابو پانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ مہم کا مقصد اینیمیا میں کمی لانا، خون میں ہیموگلوبن کی سطح بہتر بنانا اور سکل سیل و تھیلیسیمیا جیسی بیماریوں کی جلد شناخت یقینی بنانا ہے۔ مہم کے تحت ہیموگلوبن جانچ، مکمل خون کی جانچ، سیرم فیریٹن، وٹامن بی-12 اور خصوصی خون کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
فوائد تقسیم اور نمائش کامعائنہ
گورنر مسٹر پٹیل نے پروگرام میں مختلف اسکیموں کے مستحقین میں فوائد تقسیم کیے۔ سکل متر سرٹیفکیٹ، جینیٹک کارڈ، فوڈ باسکٹ، ماں گنگا آجیویکا سیلف ہیلپ گروپ، اور سی۔ سی۔ ایل۔ رقم فراہم کی گئی۔ سی۔ بی۔ ایس۔ ای۔ جماعت 12 میں 94 فیصد نمبر حاصل کرنے پر سیجل اْئیکے، قومی کبڈی کھلاڑی شیوانی اْئیکے اور بین الاقوامی کراٹے میں شاندار کارکردگی پر کلیانی کوڑپے کو سرفراز کیا گیا۔ انہوں نے خواتین و اطفال کی ترقی، مویشی پروری، قومی آجیویکا مشن، جنگلات اور محکمہ صحت کے اسٹالوں کا بھی معائنہ کیا۔ مختلف محکموں کی سرگرمیوں اور اسکیموں کی معلومات حاصل کیں۔ پروگرام میں عوامی نمائندے، سینئر افسران اور بڑی تعداد میں دیہی باشندے موجود تھے۔









