بغداد،7 جون (یواین آئی )فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے آغاز سے محض چند دن قبل عراقی فٹ بال ٹیم کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ٹیم کے اہم اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو کے او ہیئر ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد تقریباً 7 گھنٹے تک حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کی گئی۔ عراقی اولمپک کمیٹی کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ طویل تفتیش کے بعد ایمن حسین کو تو امریکہ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی، تاہم ٹیم کے آفیشل فوٹوگرافر کو ملک بدر کر دیا گیا۔واضح رہے کہ 40 سال کے طویل انتظار کے بعد عراقی ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اور ایمن حسین وہی کرشماتی کھلاڑی ہیں جن کے گول کی بدولت عراق نے فائنل راؤنڈ میں جگہ پکی کی ہے۔عراقی عہدیدار کے مطابق، تلاشی اور تفتیش کے دوران 30 سالہ اسٹرائیکر ایمن حسین کا موبائل فون بھی قبضے میں لے کر اس کی گہری اسکریننگ کی گئی۔ ٹیم کے آفیشل فوٹوگرافر طلال صلاح کو ایئرپورٹ پر 10 گھنٹے سے زیادہ وقت تک حراست میں رکھا گیا، ان کا فون بھی چیک کیا گیا اور آخر کار انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا۔
اس واقعے پر عراقی فٹ بال ایسوسی ایشن یا خود ایمن حسین کی طرف سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب، امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی اس معاملے پر میڈیا کے سوالات کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ان تمام سفارتی اور سیکیورٹی سختیوں کے باوجود، شکاگو ایئرپورٹ پر علی الصبح عراقی فٹ بال کے سینکڑوں دیوانے ٹیم کا استقبال کرنے پہنچے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عراقی تارکینِ وطن ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے اپنے ہیروز کے ساتھ تصاویر اور آٹوگراف لینے کے لیے بے تاب نظر آئے۔امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ جمعرات سے شروع ہو رہا ہے۔ عراقی ٹیم اس بار کافی مضبوط مانی جا رہی ہے جس میں ایمن حسین کے ساتھ ساتھ اپسوچ ٹاؤن کے علی الحمادی، علی جاسم اور یوسف امین جیسے باصلاحیت نوجوان شامل ہیں۔
عراقی ٹیم کو گروپ ‘آئی میں رکھا گیا ہے جہاں اس کا مقابلہ درج ذیل ٹیموں سے ہوگا۔









