بھوپال، 18 جولائی: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب کے سلسلے میں رام نگر وارڈ، گرام اپرائی، رینا اور رسالہ میں منعقدہ ورکرز میٹنگوں میں شرکت کی اور کانگریس کارکنوں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ضمنی انتخاب کے انچارج سدھارتھ کشواہا، مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر رینا بواراسی، سینئر رہنما اودھیش نایک اور کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ سمیت کئی سرکردہ لیڈران موجود تھے۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے جیتو پٹواری نے کہا کہ دتیا میں کانگریس کا ہر ایک سپاہی پوری توانائی اور عزم کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر چکا ہے، جبکہ بی جے پی اندرونی طور پر بکھراؤ کا شکار ہے جس کی رخصتی اب طے ہو چکی ہے۔ انہوں نے نعرہ دیا کہ دتیا کی عوام اب کسی لالچ میں نہیں آئے گی اور کانگریس امیدوار گھنشیام سنگھ کو 25 ہزار سے زائد ووٹوں کی تاریخی اکثریت سے کامیاب بنائے گی۔
جیتو پٹواری نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موہن یادو سرکار کے ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں عوام کو کچھ نہیں ملا اور نوجوانوں کو 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے حق سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کی مجوزہ کابینہ میٹنگ پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور اب فائیو اسٹار ہوٹلوں اور ہیلی کاپٹروں کے استعمال پر پابندی لگانے کے سرکاری فیصلے نے کانگریس کے پرانے الزامات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ سابق وزیر نروتم مشرا کے ترقیاتی دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ترقی ہوئی ہے تو غریبوں کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کیوں غائب ہیں؟ پٹواری نے الیکشن ڈیوٹی پر مامور کلکٹر، ایس پی اور تحصیلدار سمیت تمام انتظامی و پولیس افسران کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے آئینی فرائض کے مطابق مکمل غیر جانبداری اور ایمانداری سے کام کریں اور کسی بھی سیاسی دباؤ کا حصہ نہ بنیں، ورنہ جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اب بوتھ سطح پر سرگرم ہو کر گھر گھر پہنچیں اور پارٹی کی پالیسیوں کو عوام تک پہنچائیں۔









