نئی دہلی 18جولائی: دہلی کے تاریخی جنتر منتر سے سونم وانگچک کو جبراً ہٹا کر اسپتال بھیجے جانے کے بعد مودی حکومت کو لگاتار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اس معاملہ میں مودی حکومت اور تعلیمی نظام پر سخت حملہ کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت کے بنیادی اصول ’اَستیہ‘ (جھوٹ) اور ’ہنسا‘ (تشدد) ہیں۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے اس وقت ہٹانا، جب وہ عدم تشدد پر مبنی بھوک ہڑتال پر تھے، پوری طرح غلط ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں پیپر لیک اور طلبا پر تعلیم کے بڑھتے بوجھ کا بھی ذکر اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’پیپر لیک، تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات اور طلبا کی خودکشی ہندوستان کے مستقبل کے لیے اہم مسائل ہیں۔‘‘
ساتھ ہی وہ عزم ظاہر کرتے ہیں کہ ’’طاقت کا کوئی بھی استعمال ہندوستان کے طلبا اور ہم میں سے ان لوگوں کو، جو ان طلبا سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد رکھتے ہیں، ان مسائل کو اٹھانے سے روک نہیں سکتا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی سے قبل کانگریس کے کئی دیگر سرکردہ لیڈران نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے جبراً ہٹائے جانے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر مودی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے پیپر لیک و امتحان میں بے ضابطگی جیسے اہم مسائل پر طلبا کی آواز بلند کرنے اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔