ڈھاکہ، 9 جون (یواین آئی ) بنگلہ دیشی ٹائیگرز نے منگل کے روز ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے آسٹریلیا کو پہلے ون ڈے میچ میں شکست دے دی۔ مردوں کے ون ڈے فارمیٹ میں بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف 21 طویل سالوں بعد یہ پہلی فتح ہے۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو آخری بار 2005 میں انگلینڈ میں کھیلی گئی نیٹ ویسٹ سہ ملکی سیریز کے دوران ہرایا تھا۔
میرپور کے شیرِ بنگلہ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 284/8 کا مضبوط اسکور بنایا۔ جواب میں آسٹریلوی ٹیم 42.2 اوورز میں 191/9 تک ہی پہنچ پائی تھی کہ تیز بارش کے باعث کھیل روکنا پڑا اور بعد میں ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت بنگلہ دیش کو 86 رنز سے فاتح قرار دیا گیا۔ اس تاریخی جیت کے ساتھ ہی میزبان ٹیم نے 3 میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
سال 2022 کے بعد اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے مصدق حسین نے شاندار واپسی کرتے ہوئے دھواں دھار 86 رنز بنائے، جبکہ اوپنر تنزید حسن تمیم (54) اور نجم الحسن شانتو (67) نے بھی نصف سنچریاں اسکور کر کے بنگلہ دیش کو 284 کے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان 15 سال بعد ہونے والی پہلی دوطرفہ ون ڈے سیریز ہے۔
285 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کینگروز کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی۔ صرف کیمرون گرین ہی نصف سنچری بنا کر کچھ مزاحمت کر سکے۔ بنگلہ دیش کے نوجوان تیز گیند باز ناہد رانا نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی 4 اہم وکٹیں حاصل کیں، جس کی وجہ سے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کے 7 بلے باز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہو سکے۔
بنگلہ دیش نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر گزشتہ چار ون ڈے سیریز میں سری لنکا، ویسٹ انڈیز، پاکستان اور نیوزی لینڈ کو شکست دی ہے، جس کی بنیادی وجہ میرپور میں تیز گیند بازوں کے لیے سازگار پچز بنانا ہے۔ اسی فارمولے کے تحت بنگلہ دیش نے تسکین احمد، مستفیض الرحمان اور ناہد رانا پر مشتمل تھری پرانگیڈ سیم اٹیک میدان میں اتارا جو مکمل طور پر کامیاب رہا۔