بھوپال:02؍نومبر:(پریس ریلیز) آج یکم نومبر کو دن میں ایک بجے سیفیہ کالج کے سابق طلبہ (اولڈ اسٹوڈنٹس) کا ایک اجلاس بھوپال کے مشہور مؤرخ جناب رضوان انصاری کے دولت کدے پر منعقد ہوا۔ اس میں تقریباً چالیس سے پچاس افراد نے شرکت کی، جو سب سیفیہ کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں۔
شرکاء:سابق اولمپین کھلاڑی جناب اسلم شیر خان، شاہنواز خان ایڈوکیٹ، جناب خالد غنی صاحب (شاعر اور تاریخ کے ماہر)، محمد ماہر خان، ایس ایم سلمان ایڈوکیٹ، دیگر کئی وکلاء، جناب انوار محمد خان (سابق سیکریٹری، شاہی اوقاف)، جناب طارق نعمانی، محمد امین (بین الاقوامی کھلاڑی)، نسیم بھوپالی، عارف انصاری، انجینئر عبدالشفیق صاحب، خالد صاحب، خالد خان صاحب، اشواق صاحب اور دیگر کئی حضرات۔
اجلاس کا مقصد اور تجویز:
کھانے کے بعد ہونے والی نشست میں بھوپال کے “بڑا باغ” پر غور کیا گیا۔ یہ تقریباً 32 ایکڑ پر پھیلا ہوا علاقہ ہے جسے شاہی اوقاف نے وقف کیا ہوا ہے۔ یہاں شاہی قبرستان اور کئی مقبرے ہیں، اور کافی زمین خالی پڑی ہے۔ حاضرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جس طرح دیگر وقف جائیدادوں پر کچھ لوگ ناجائز قبضہ کر لیتے ہیں یا وہ سرکاری تحویل میں چلی جاتی ہیں، اسی طرح اس جائیداد کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے طے پایا کہ اسے محفوظ رکھنے کے لیے کسی تعمیری مقصد میں استعمال کیا جائے۔
باہمی مشورے سے تجویز آئی کہ یہاں درج ذیل ادارے قائم کیے جائیں:
تعلیمی مرکز:
میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج:
سائنس کالج اور گرلز کالج:
لڑکیوں اور لڑکوں کے الگ الگ اسکول:
اسپورٹس کونسل / اسپورٹس ٹریننگ سینٹر:
نرسنگ ہوم اور نرسنگ ٹریننگ سینٹر:
آئندہ لائحۂ عمل:
ظاہر ہے کہ اس کے لیے شاہی اوقاف سے اجازت لینا ہوگی، اور بہتر یہ ہوگا کہ یہ کام وہ خود انجام دیں۔ اس سلسلے میں طے ہوا کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے چیئرمین جناب صنور خان صاحب سے ملاقات کی جائے، اور اس سے پہلے مقامی ایم ایل اے صاحبان جناب عاطف عقیل اور جناب عارف مسعود کو بھی ساتھ لیا جائے۔ ان سب سے مل کر ایک پروگرام تیار کیا جائے اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس پورے منصوبے کی تعمیر و عملدرآمد پر کام کرے۔ اسی طرح جناب سکندر حفیظ صاحب، جو اس وقت شاہی وقف کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، اور محترمہ صبا صاحبہ، جو شاہی اوقاف کی سیکریٹری ہیں اور جن کے زیرِ انتظام پورا شاہی اوقاف ہے، ان سے بھی اس بارے میں گفتگو کی جائے۔
اس سے قبل بھوپال کے عوام کی رائے لی جا چکی ہے اور اس موضوع پر پہلے بھی بات چیت ہو چکی ہے۔ جناب آفاق صاحب نے اس کا ایک مسودۂ تجویز (پروپوزل) بھی تیار کیا تھا، جو اجلاس میں ٹی وی اسکرین پر دکھایا گیا کہ یہاں کیا کیا تعمیر کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں مزید نشستیں رکھنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔
فنڈ: جہاں تک مالی وسائل کا تعلق ہے، کراؤڈ فنڈنگ بھی کی جا سکتی ہے، اور شہر کے کئی صاحبِ حیثیت افراد تعاون کے لیے تیار ہیں۔
حتمی فیصلہ:تمام گفتگو کا نچوڑ یہ رہا کہ پہلے گیارہ ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کا اعلان کیا جائے، نیز سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے۔ یہ کمیٹی آئندہ دو سے چار دنوں میں اعلان کر دی جائے گی۔
شکریہ: اجلاس کے اختتام پر تمام حاضرین نے اتنے عمدہ پروگرام کے انعقاد پر جناب رضوان انصاری صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ سیفیہ کالج کے سابق طلبہ کا یہ سلسلہ تقریباً 24 سال سے جاری ہے۔ ہر مہینے کم از کم ایک نشست ضرور ہوتی ہے جس میں تمام پرانے طلبہ جمع ہوتے ہیں اور ایسے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔
شکریہ۔
میں نے “صنور خان” کو ص (صواد) کے ساتھ لکھا ہے، جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ اگر آپ کا مطلب کچھ اور تھا تو بتا دیں۔








