بھوپال 2نومبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود، ان کی آمدنی میں اضافے اور زرعی شعبے کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں سے جوڑنے، زراعت میں تنوع کو فروغ دینے اور زرعی پیداوار کی بہتر قیمت دلانے کے لیے حکومت کی جانب سے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم نے کسانوں سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا بھی کیا ہے۔ ان دنوں ریاست میں کسانوں کو کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے دن میں 10 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو پیر کو منترالیہ سے ضلع سیونی کی سمیریا منڈی کے احاطے میں منعقدہ بلرام زرعی میلے سے ورچوئلی خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ربیع کی فصلوں کی آبپاشی کے لیے دن کے وقت 10 گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی سے کسانوں کو رات میں آبپاشی کرنے کی مجبوری سے راحت ملے گی۔ انہوں نے دھان کی سرکاری خریداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ اہل کسانوں کو امدادی قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے کا موقع فراہم کرنے کے مقصد سے دھان کی خریداری کے رجسٹریشن کی آخری تاریخ بڑھا کر 4 نومبر کر دی گئی ہے۔ اس سمت میں ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی اہل کسان رجسٹریشن سے محروم نہ رہے۔
سیونی میں فوڈ پارک قائم کیا جائے گا
و زیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ضلع کا جیرا شنکر چاول اپنی منفرد خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ بڑے سائز اور مٹھاس سے بھرپور سیونی کا جمبو سیتا پھل بھی ضلع کی خاص پہچان بن رہا ہے۔ ضلع میں ٹماٹر، مرچ، السی، سرسوں اور سورج مکھی جیسی فصلوں کی کاشت بھی کسانوں کے لیے اہم امکانات پیش کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زرعی پیداوار کی مقامی سطح پر پروسیسنگ اور قدر میں اضافے کے ذریعے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملے، اسی مقصد سے سیونی میں جلد ہی فوڈ پارک قائم کیا جائے گا۔ اس سے زراعت پر مبنی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور مقامی سطح پر روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے مچھلی کے بیج کی پیداوار کرکے کسانوں اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کی سمت میں ضلع کے جیوناڑا فش سیڈ فارم کے اہم کردار کا بھی ذکر کیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سال 2026 کو کسانوں کی فلاح و بہبود کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے کھیتی باڑی کو مزید منافع بخش بنانے کے ساتھ کسانوں کو آمدنی کے اضافی ذرائع سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ روایتی فصلوں کے ساتھ دالوں، تلہن، باغبانی اور نقد آور فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ کسان بازار کی مانگ کے مطابق فصلیں پیدا کر سکیں اور زرعی خطرات کو بھی کم کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں زراعت کو صرف روایتی کھیتی تک محدود نہ رکھتے ہوئے باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری اور غذائی اشیا کی پروسیسنگ جیسی سرگرمیوں سے جوڑ کر کسانوں کی آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ کسانوں کی محنت سے ہی مدھیہ پردیش زراعت کے شعبے میں مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
’وزیر اعلیٰ رجسٹری اسکیم‘ سے دیہی باشندوں کو جائیداد کا پختہ حق ملے گا
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ رجسٹری اسکیم‘ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے ایک اہم پہل ہے۔ اس کے ذریعے دیہی آبادی والے علاقوں کی جائیدادوں کا سروے کرکے اہل مستحقین کو حقوق کے ریکارڈ اور رجسٹری فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاست کے تقریباً 60 لاکھ سے زیادہ دیہی باشندوں کو ان کی پٹہ شدہ جائیداد کی پختہ رجسٹری کراکر مکمل حقوق دلانے کے لیے ریاستی حکومت اپنے خزانے سے 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کرے گی۔









