بھوپال2نومبر:(پریس نوٹ) مدرسہ جامعہ محمدیہ جنتا نگر بھوپال کے ناظم مفکر ملت مولانا محمد قاسم رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں بتایا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار کے مدرسہ دارالقرآن میں بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ معاملہ قابل افسوس ، تشویشناک اور تکلیف دہ ہے جبکہ آئین کے دفعہ 29اور 30کے تحت اقلیتوں کو تعلیم گاہ قائم کرنے اور چلانے کا بنیادی حق حاصل ہے لیکن افسوس کہ اس وقت ان سب سے قیمتی ملی سرمایہ کو تعصب وتنگ نظری کے جال میں الجھا کر اس کے وجود اور اس کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اربابِ مدارس کی نظر حالات پر ہونے کے باوجود وہ خود بھی مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے تعلق سے غفلتوں کے شکار ہیں جو نہایت افسوسناک ہے ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ارباب مدارس، ملت کے علماء ودانشوران اور تعلیم گاہوں کے ذمہ داران اس مسئلہ پر باربار سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسئلہ کا حل نکالیں اور اس طرح اپنے سیاسی شعور، قانونی حق، دینی بصیرت، سماجی بیداری اور مستقبل کی دور اندیشی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔