نئی دہلی2نومبر: دہلی پولیس کے اندرونی اختلافات پیر کو اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب دو سینئر پولیس افسران کے تبادلے کے خلاف بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔ شاہدرہ تھانے میں پولیس اور وکلا کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد افسران کے تبادلے سے ناراض اہلکاروں نے مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) منسوی وششٹھ اور شاہدرہ تھانے کے سابق ایس ایچ او ارون کمار کو ان کے پرانے عہدوں پر بحال کیا جائے۔ احتجاج کے دوران پولیس اہلکار ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پوسٹر لیے نظر آئے۔ اس معاملے پر اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس اپنے ہی ناراض اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی؟
دہلی پولیس اور وکلا کے درمیان تنازع 23 اکتوبر کو شاہدرہ تھانے میں ہاتھا پائی کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس دوران ایک وکیل زخمی ہوگیا تھا۔ واقعے کے بعد وکلا نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اے سی پی منسوی وششٹھ اور انسپکٹر ارون کمار کا تبادلہ کردیا گیا۔ ان تبادلوں کے بعد وکلا نے اپنی ہڑتال واپس لے لی تھی۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے ان تبادلوں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ وکلا کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی اور دھمکیاں دینے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے تحفظ اور عزت کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ اے سی پی منسوی وششٹھ نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ افسران سے درخواست کی تھی کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست بھی دی گئی ہے۔ انہیں امید ہے کہ سینئر افسران ان کی بات سنیں گے اور معاملے کا حل نکالیں گے۔









