تہران 20ستمبر:مشرقِ وسطیٰ کے حالات ایک بار پھر بگڑتے نظر آ رہے ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ایک فوجی افسر اور لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ٹرمپ امریکیوں کی قربانی دینے والے ہیں۔ ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا- ’اگر ٹرمپ یمن پر حملہ کرتے ہیں تو وہ امریکیوں کی جان خطرے میں ڈالنے والے ہیں۔ یمن پر حملہ کرتے ہی باب المندب کا راستہ امریکہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ مغرب میں غربت آ جائے گی۔‘ ایران کی یہ دھمکی اتنی بھی ہلکی نہیں ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا کے بڑے حصے کا تیل، گیس اور تجارتی سامان اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی سفارت خانوں نے سیکورٹی الرٹ جاری کیے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشے کو لے کر تشویش تیز ہو گئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی سفارت خانوں نے شہریوں کی حفاظت کے لیے الرٹ جاری کیے ہیں۔
لبنان، بحرین، کویت، اردن، قطر، عراق، اسرائیل، عمان، سعودی عرب اور ترکی میں موجود امریکی سفارت خانوں نے وہاں رہنے والے امریکی شہریوں کے لیے سیکورٹی سے متعلق ضروری الرٹ جاری کیے ہیں۔ ایران نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایران نے آئی آر جی سی، فوج اور سیکورٹی فورسز کے لیے اپنا سب سے بلند الرٹ لیول ’کوڈ 100‘ جاری کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سیکورٹی حالات کو دیکھتے ہوئے عراق میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے نے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جو امریکی ابھی مشرقِ وسطیٰ میں ہیں، انہیں زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند ہونے اور سفر میں رکاوٹ آنے جیسے امکانات کا خیال رکھنا چاہیے۔









