لکھنؤ20ستمبر: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتوار کو بغیر نام لیے بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے مہنگائی، بدعنوانی، قانون و انتظام، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور آئینی امور سمیت متعدد معاملات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے متعلق دعوؤں اور بیانات پر اب عوام کا اعتماد نہیں رہا اور لوگ ایسے لوگوں کو سننے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ میں مختلف معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مندر میں چوری کروانے والے اور دکھی ماں کی توہین کرنے والوں کی جھوٹی بات پر اب کوئی بھروسہ نہیں کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے اپنے خلاف مقدمات واپس کروائے، شنکراچاریہ تک پر حملے اور الزامات لگوائے اور آئین کی مخالفت میں بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے تک توڑے، ان کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ایس پی صدر نے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی، ہاتھرس معاملے میں انصاف نہ ملنے، ایک نوجوان بیوہ کو جیل میں اذیت دیے جانے اور اساتذہ، صحافیوں و ایماندار افسران کے ساتھ بدسلوکی جیسے معاملات بھی اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کوریڈور، پل، ایکسپریس وے، مندر اور پانی کی ٹنکی کے نام پر تعمیراتی کاموں میں بدعنوانی ہوئی، جبکہ اقتدار سے وابستہ افراد کو جرائم کے بعد بچانے کی کوشش کی گئی۔
اکھلیش نے یہ بھی الزام لگایا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ حکومت کی تشہیر پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے خلاف جھوٹے مقدمات، فرضی انکاؤنٹر اور بلڈوزر کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔مہنگائی کے معاملے پر اکھلیش نے کہا کہ کھانا پینا، دوا علاج اور تعلیم تک مہنگی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کسانوں کو کھاد، آبپاشی کا پانی اور بجلی نہ ملنے، آوارہ مویشیوں سے فصلوں کو نقصان اور کسانوں و مزدوروں کو محنت اور پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق جی ایس ٹی سے چھوٹے دکاندار اور کارخانے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے روزگار کے معاملے میں بھرتیوں کے عدالتی تنازعات، کنٹریکٹ ملازمت، ’لیٹرل انٹری‘ اور ’ناؤٹ فاؤنڈ سوٹیبل‘ جیسے طریقوں کے ذریعے ریزرویشن کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا۔ خواتین کے خلاف جرائم، حراست میں اموات، غیر قانونی کان کنی، قبضہ، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ جیسے مسائل بھی ان کی تنقید کا حصہ رہے۔