نئی دہلی 20ستمبر:راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے دہلی میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ سبل نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ جب ان کے پرانے ووٹر ریکارڈ کا ملان ہو چکا ہے، بی ایل او ان کے دستاویزات اور فارم پر دستخط کر چکا ہے اور ان کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں بھی موجود ہے، تو انہیں ’اَن میپڈ ود لاسٹ ایس آئی آر‘ زمرے میں نوٹس کیوں بھیجا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب وہ شہری نہیں ہیں؟ سینئر وکیل نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اس نوٹس کی اطلاع خود الیکشن کمیشن سے نہیں بلکہ ایک فون کال کے ذریعے ملی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے یہاں بھی نوٹس کی کوئی فزیکل کاپی نہیں پہنچی ہے۔ سبل کے مطابق ویب سائٹ پر نوٹس کی معلومات دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے دفتر سے اس کی تصدیق کرائی، لیکن وہاں بھی نوٹس نہیں ملا۔
پریس کانفرنس میں سبل سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نوٹس کے خلاف عدالت جائیں گے؟ اس پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سپریم کورٹ نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ملان ہو چکا ہے تو میں عدالت کیوں جاؤں گا؟ نام کاٹنے دو ان کو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کو غلط طریقے سے کاٹے جانے کی شکایت لے کر سپریم کورٹ میں درخواست گزار بن کر نہیں جائیں گے۔ ملک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آخر اس عمل میں کیا ہو رہا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید اعداد و شمار جمع کریں گے اور انہیں عوام کے سامنے رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ووٹر لسٹ تیار کرنے کے عمل میں کس طرح کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پورا عمل 2029 کے انتخابات کی تیاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سبل نے آخر میں کہا کہ وہ آئندہ بھی اس معاملے پر بات کریں گے اور مزید اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آئیں گے۔









