نئی دہلی 4نومبر: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو وزیراعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ووٹ چوری اور بھارتی مفادات کو بیرونی طاقتوں کے سامنے گروی رکھنے سے متعلق سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو کھلی بحث کا چیلنج بھی دیا۔ کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مودی اپنا ناکام ہو چکا ’دماغی نکسل‘ والا جملہ بار بار دہرا رہے ہیں، جبکہ وہ راہل گاندھی کی اس کھلی دعوت کا جواب نہیں دے رہے کہ بھارتی مفادات کو بیرونی طاقتوں کے حوالے کرنے کے معاملے پر گفتگو کی جائے۔ کانگریس صدر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ تین کروڑ ووٹر درانداز ہیں۔ کھڑگے نے پوچھا کہ شاہ کئی برس سے وزیر داخلہ ہیں، تو اس عرصے میں وہ کیا کر رہے تھے اور مبینہ غیر قانونی افراد کو بھارت میں داخل ہونے سے کیوں نہ روک سکے۔ انہوں نے شاہ کو اس معاملے میں نااہلی پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ کھڑگے نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر الیکشن کمیشن کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کمیشن اس عمل کے بارے میں پانچ مرتبہ اپنا مؤقف بدل چکا ہے۔ انہوں نے فارم 6 میں مکمل تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی تبدیلی کو ساتھی انتخابی کمشنروں نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ یہ تبدیلی کیوں کی گئی۔









