نئی دہلی 4نومبر: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا ہے۔ کیرلم میں ان کے خلاف تقریباً 20 سال پرانے مبینہ رشوت معاملے کی تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سابق سکریٹری برائے تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) گیانیش کمار کے خلاف بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے وجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو کو منظوری دے دی ہے۔ الزام ہے کہ 2006 میں کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت سڑک کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد ادائیگی جاری کرنے کے عوض 2 کروڑ روپے رشوت طلب کی گئی تھی۔ دہلی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیر رمیش چنیتھلا نے کہا کہ انہوں نے ایک دن پہلے گیانیش کمار کے خلاف تحقیقات کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کے سابق سکریٹری کے خلاف کئی طرح کے الزامات لگائے گئے تھے، جن کی وجلنس محکمہ تحقیقات کرنا چاہتا تھا۔ چنیتھلا نے بتایا کہ جب وجلنس نے حکومت سے باضابطہ منظوری طلب کی تو اس معاملے میں قانونی رائے لی گئی۔ قانونی مشورے میں واضح کیا گیا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور مبینہ بدعنوان طرز عمل کی تحقیقات وجلنس محکمہ کر سکتا ہے۔
اسی قانونی رائے کی بنیاد پر انہوں نے انسداد بدعنوانی قانون کی دفعہ17 (اے) کے تحت تحقیقات کی منظوری دی۔
اس پورے تنازعہ کی جڑ کیرلم میں سڑک کی تعمیر سے متعلق ایک پروجیکٹ ہے۔ اس وقت گیانیش کمار ریاست کے محکمہ تعمیرات عامہ کے سکریٹری تھے۔ کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت مین سنٹرل روڈ کے ایک بڑے حصے کی تعمیر اور بہتری کا کام ہندوستان اور ملیشیا کے مشترکہ ادارے پی اے ٹی آئی-بی ای ایل کو دیا گیا تھا۔ کولم کے ٹھیکیدار ساجن کا الزام ہے کہ پروجیکٹ کا کام مکمل ہونے کے بعد کمپنی کے تقریباً 17 کروڑ روپے کے بل انجینئروں نے منظور کر دیے تھے، لیکن ادائیگی کے چیک جاری نہیں کیے جا رہے تھے۔ ساجن کے مطابق، اس وقت کے پی ڈبلیو ڈی سکریٹری گیانیش کمار نے ادائیگی جاری کرنے کے عوض 2 کروڑ روپے رشوت طلب کی تھی۔









