نئی دہلی 20ستمبر: دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹسوں کی فہرست میں کئی اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ موجودہ اور ریٹائرڈ اعلیٰ افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، خارجہ سکریٹری وکرم مسری اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن آڈوانی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایس ایس سندھو کو ووٹر ریکارڈ میں نام کی اسپیلنگ کے فرق کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا گیا ہے، جبکہ وکرم مسری سمیت بعض دیگر افراد کے نام گزشتہ ایس آئی آر کے ریکارڈ سے میپ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ جے شنکر اور ان کی اہلیہ کے ایس جے شنکر کے نام بھی نوٹس حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ نوٹس پانے والی دیگر اہم شخصیات میں سیبی کے چیئرمین توہین کانت پانڈے، وزیر اعظم کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر اجے سود، صحت سکریٹری پنیہ سلیلا، محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری ابھلاشیا لکھی، ان کی اہلیہ سُکتی لکھی، فوڈ سکریٹری رجت کمار مشرا اور لینڈ ریسورسز سکریٹری نریندر بھوشن شامل ہیں۔ سابق افسران میں سابق سی اے جی سنجے مورتی، نیتی آیوگ کے سابق نائب چیئرمین اروند پنگڑھیا، یو جی سی کے چیئرمین ایم جگدیش کمار، سابق سکریٹری الکا اپادھیائے، روہت کمار سنگھ، نیّنا سنگھ، گری دھر ارمانے اور لینا نندن کے نام بھی شامل ہیں۔
سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن آڈوانی کو بھی نوٹس بھیجے جانے کی اطلاع ہے۔ ان کا نام 2002 کے پرانے ووٹر ریکارڈ سے میپ نہ ہونے کی وجہ سے نشان زد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کپل سبل اور کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی کے نام بھی نوٹس فہرست میں شامل ہیں۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھی ایس آئی آر کے تحت نوٹس پانے والوں میں شامل ہیں۔ کیجریوال، ان کی اہلیہ، بیٹے اور والدین سمیت خاندان کے پانچ افراد کو ’ان ایپڈ ود لاسٹ ایس آئی آر‘ زمرے میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔









