بھوپال، 11 ستمبر: دارالحکومت میں میٹرو ریل کوریڈور کے دونوں اطراف تقریباً نصف کلومیٹر (500 میٹر) کے دائرے کو ٹرانسفربل ڈیولپمنٹ رائٹس (ٹی ڈی آر) وصولی زون قرار دیے جانے کی حکومتی تجویز پر سنگین تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جس کے خلاف دعوے اور اعتراضات کے باضابطہ عمل کے تحت ‘سنیوکت رہواسی سنگھرش سمیتی نے اعتراض درج کراتے ہوئے اس ترمیم اور اس کے طریقہ کار کی شفافیت پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ سمیتی کے نمائندوں وویک ترپاٹھی اور لونیش بھاٹی نے ڈائریکٹوریٹ آف ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ کو باضابطہ اعتراض پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جب تک مجوزہ زون سے متعلق تمام تفصیلی دستاویزات، نقشہ جات، متاثرہ خسرہ نمبرات کی فہرست، ترقیاتی حدود اور قواعد و ضوابط عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے، تب تک اس ترمیمی عمل کو فوری طور پر روک دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو محکمہ جاتی ویب سائٹ پر اس کا مکمل نقشہ اور تفصیلات دستیاب ہیں اور نہ ہی عام شہریوں کو اس کے معائنے کا موقع دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر اتنا بڑا فیصلہ مسلط کیا جا رہا ہے۔
سمیتی کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھوپال جیسے بڑے شہر کے ماسٹر پلان میں نصف کلومیٹر کے وسیع رقبے کو ٹی ڈی آر زون قرار دینا محض کوئی تکنیکی عمل نہیں ہے بلکہ اس کے براہِ راست دور رس اثرات زمین کے استعمال، تعمیراتی اجازت ناموں، ٹریفک نظام، ماحولیات اور دارالحکومت کے مجموعی بنیادی ڈھانچے پر پڑیں گے۔ انہوں نے حکومت کے اس اقدام کے جواز پر بھی سوال اٹھایا کہ جب حکومت پہلے ہی طویل المدتی ‘بھوپال ڈیولپمنٹ پلان 2047’ کی تیاری کا اعلان کر چکی ہے تو دو دہائی پرانے یعنی سنہ 2005 کے ماسٹر پلان میں اب اتنی بڑی بنیادی ترمیم کرنے کا کیا مقصد ہے؛ لہٰذا ماحولیات، تالابوں، میٹرو نیٹ ورک اور آبادیاتی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ڈی آر جیسی اہم شقوں کو نئے ماسٹر پلان 2047 ہی میں شامل کیا جانا قانونی اور اصولی اعتبار سے زیادہ مناسب ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی سمیتی نے اریرہ کالونی کے ای-1 تا ای-5، شیاملا ہلز اور راج بھون جیسے ماحولیاتی اعتبار سے حساس، کم آبادی والے اور تاریخی علاقوں پر ممکنہ دباؤ کے پیشِ نظر خصوصی اسٹڈی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹی ڈی آر زون کا واضح خاکہ، ماحولیاتی و ٹریفک اثرات کی رپورٹ اور حدود کا قطعی تعین منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ شہری، عوامی نمائندے اور رہائشی تنظیمیں حقائق پر مبنی اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کر سکیں۔