نئی دہلی، 11 ستمبر: عالمی معیشت میں طاقت کے بدلتے توازن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران دنیا کی مجموعی جی ڈی پی میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ رہا ہے، جبکہ جی-7 ممالک کا حصہ تقریباً 29 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عرصے میں عالمی اقتصادی ترقی میں بھی برکس کا حصہ نصف سے زیادہ رہا، جبکہ جی-7 کا حصہ تقریباً 18 فیصد رہا۔
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ برکس بزنس فورم کے لیڈرز سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ یہ اعداد و شمار عالمی معیشت میں برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس گروپ کے پاس ایک بڑا اور متحرک داخلی بازار موجود ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ دنیا اس وقت گہری اور بنیادی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے اور عالمی اقتصادی ترقی کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں اقتصادی ترقی کی قیادت کرنے والے ممالک کے ساتھ ساتھ اب برکس جیسے ممالک بھی عالمی ترقی کے نئے انجن بن رہے ہیں۔
پوتن نے تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ روایتی معاشی طاقتوں کے پاس اب بھی مضبوط بنیادی ڈھانچہ، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی صلاحیت اور مستحکم تحقیقی نظام موجود ہیں۔ ان کے مطابق عالمی معیشت کی فطرت ہی مسلسل تبدیلی کی ہے۔
دریں اثنا وزیراعظم نریندر مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ جمعہ کے روز یہاں برکس سربراہ اجلاس کے حاشیے پر اہم دو طرفہ بات چیت کی جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے 2030ء کے لیے اقتصادی تعاون پروگرام نافذ کرنے، بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیل سے بات چیت کی۔
روس یوکرین جنگ پر ایک بار پھر ہندوستان کا موقف دہراتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے اور ہندوستان امن کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ہندوستان-روس سالانہ سربراہ اجلاس کے لیے پوتن کا دورۂ روس کا دعوت نامہ بھی قبول کیا۔ سربراہ اجلاس کے انعقاد کے مقام بھارت منڈپم میں ہوئی بات چیت کے بعد نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے دو طرفہ امور کے علاوہ ہندوستان کی برکس صدارت کے دوران دنیا کی فلاح و بہبود سے متعلق سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں دونوں نے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے جس میں 2030ء کے لیے اقتصادی تعاون پروگرام کو نافذ کرنا بھی شامل ہے، پر بھی بات چیت کی۔
اسی اجلاس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی برکس کو محض ممکنہ تعاون کے پلیٹ فارم کے بجائے عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے برکس تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور اقتصادی ذرائع کے بڑھتے سیاسی استعمال نے عالمی اقتصادی ماحول کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت صرف رکن ممالک کی مجموعی اقتصادی حجم میں نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ مالی تعاون کے مضبوط نیٹ ورک قائم کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کے درمیان تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے، باہمی ادائیگی کے نظام کو مضبوط کرنے اور کرنسی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مالیاتی میکانزم تیار کرنے پر زور دیا۔ایرانی صدر نے برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت کا اہم ذریعہ بنانے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے مقامی کرنسیوں میں قرض اور مالی معاونت کے ساتھ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ضمانتی نظام تیار کرنے پر زور دیا۔