بھوپال، 11 ستمبر: دارالحکومت کے روشن پورہ چوراہہ پر سابق وزیر پی سی شرما کی جانب سے بھوپال ماسٹر پلان کے نفاذ کے پرزور مطالبے کو لے کر 31 گھنٹے طویل برت (فاقہ کشی) کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق وزیر و رکنِ اسمبلی جے وردھن سنگھ، سابق وزیر راج کمار پٹیل، مہیندر جوشی، گووند گوئل، ارودیشور شرن سنگھ، ضلع صدر گوالیار سریندر یادو، کونسلر گڈو چوہان، حزبِ اختلاف رہنما شائستہ ذکی، تاجر برادری، سماجی کارکنان اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے تحریک کی بھرپور حمایت کی۔
اس موقع پر پی سی شرما نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کی قیادت میں بطور شہری انتظامیہ اور ہاؤسنگ وزیر جے وردھن سنگھ اور ان کے دورِ اقتدار میں بھوپال ماسٹر پلان 2031 مکمل تیار کر لیا گیا تھا، لیکن موجودہ بی جے پی حکومت نے آج کی تاریخ تک اسے دانستہ طور پر نافذ نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسٹر پلان نافذ نہ ہونے کی وجہ سے دارالحکومت کے رہائشی، تاجر برادری اور عام شہری مسلسل مشکلات کا شکار ہیں، جس کے منفی اثرات شہر کی معیشت، روزگار کے مواقع اور عوام کی روزمرہ کی زندگی پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ دارالحکومت کی منظم ترقی، شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، تجارت کو رفتار بخشنے اور شہر کی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے حکومت بھوپال ماسٹر پلان کو فوری طور پر اور بلاتاخیر نافذ کرے۔









