بھوپال:20؍اگست:وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا ہے کہ کسانوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی اور جدت نے کھیتی میں خوشحالی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ آنے والے وقت میں زراعت، صنعت، دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں سے روایتی کھیتی کے ساتھ ساتھ فصلوں میں تنوع، باغبانی اور مویشی پالنے سے بھی جڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ فصل کی پیداوار کے ساتھ دودھ کی پیداوار اور مچھلی پالنے کو اپنا کر کسان اپنی آمدنی کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ واقع سمتو بھون سے اشوک نگر میں منعقد بلرام زرعی میلے سے ورچوئلی خطاب کر رہے تھے۔
اشوک نگر کے ان داتا اپنی محنت سے ریاست کے کسانوں کے لیے مثال بنے
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اشوک نگر کے ان داتا اپنی محنت سے پوری ریاست کے کسانوں کے لیے مثال بن رہے ہیں۔ اشوک نگر کی چندیری ساڑی نے مدھیہ پردیش کو عالمی شناخت دلائی ہے۔ اشوک نگر کی شربتی گندم کا ذائقہ بے مثال ہے۔ اشوک نگر کی شربتی گندم کی ملک بھر میں مانگ ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ضلع کے کسانوں میں دھنیا اور گلاب جیسی باغبانی کی فصلوں کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ کم بارش کے چیلنج کے درمیان DRS ٹیکنالوجی کے ذریعے دھان کی پنیری لگانے کا رقبہ بڑھا کر اشوک نگر کے کسانوں نے آفت کو موقع میں تبدیل کیا ہے۔ فصلوں میں تنوع کی وجہ سے ضلع میں چنا اور مسور کی کاشت کا رقبہ بھی بڑھا ہے۔
سرحد پر جوان اور کھیت میں کسان کا کردار یکساں ہے
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسان، خواتین، غریب اور نوجوان، یہ چاروں طبقے ریاستی حکومت کے لیے اہم ہیں۔ کسان کے خوشحال اور آسودہ ہونے سے ہی پورا سماج اناج اور دولت سے مالا مال رہے گا۔ سرحد پر جوان اور کھیت میں کسان کا کردار یکساں ہے، دونوں ہی ملک کے لیے وقف ہیں۔ریاستی حکومت پوری حساسیت اور سرگرمی کے ساتھ کسانوں کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ اسی کے نتیجے میں پورا سال کسان فلاح کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسان کا مطلب ہی خود کفالت ہے۔ اپنے بل بوتے پر اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے سماج کی پرورش کے لیے اناج کا پیالہ بھرنے کی صلاحیت صرف کسانوں میں ہی ہے۔ کھیتی کو فائدہ مند بنانے کے لیے پوری ریاست میں بجلی اور پانی کی سہولت کے ساتھ ساتھ کھیتوں تک سڑک کا رابطہ فراہم کرنے کا کام جاری ہے۔ کسانوں کی سہولت کے لیے سال میں صرف ایک بار کھاتے کو کلیئر کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ زرعی زمین کے حصول پر کسانوں کو چار گنا معاوضہ دیا جائے گا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کو متعدد سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں دودھ کی پیداوار کو 12 سے 20 فیصد تک لے جانے کے لیے مختلف سرگرمیاں جاری ہیں۔ چند ماہ بعد کسانوں کو دن کے وقت ہی وافر بجلی فراہم کی جائے گی۔ لاڈلی بہنا اسکیم اور کسان سمان ندھی سے ہمارے بھائی بہنوں کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے۔ بڑی رقم کی سبسڈی کے ذریعے کسانوں کو آبپاشی کے لیے 5، 7 اور 10 ہارس پاور کے بجلی پمپوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کے لیے تعاون ہے۔ کسانوں کو ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ سندیپنی اسکول کے ساتھ ساتھ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔ کسانوں کی آنے والی نسل کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے ریاستی حکومت پْرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کسانوں کو آنے والے تہواروں کی مبارکباد دی
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جنم اشٹمی، بلرام جینتی، رکشا بندھن اور دیگر تہواروں کی مبارکباد دی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اشوک نگر کے بلرام زرعی میلے میں موجود کسانوں سے ورچوئلی بات چیت بھی کی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی مسٹر ہیمنت کھنڈیلوال اور کسان مسٹر جے پال چاوڑا بھی موجود تھے۔ منگاولی کے رکن اسمبلی مسٹر برجندر سنگھ یادو اور کسان مورچہ کے ضلعی صدر مسٹر دھرم ویر رگھوونشی نے اشوک نگر کو مختلف سہولتیں دینے کے لیے وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کا شکریہ ادا کیا۔