نئی دہلی 20اگست: سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر سبھاش ریڈی کی سربراہی میں ایک ہائی پاورڈ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کے دیگر اراکین میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکر جھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندر کور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے سابق ڈی جی پی ایل آر بشنوئی شامل ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی9 بھارت ورش‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہائی پاورڈ کمیٹی مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، پیلیٹ گن کے استعمال، پولیس کارروائی کی جواب دہی، مظاہرین کی نگرانی، خواتین مظاہرین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے الزامات، متاثرین کو طبی امداد اور معاوضہ جیسے معاملات کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ پُرامن احتجاج کے حق اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے درمیان مناسب توازن کس طرح قائم کیا جائے۔
عدالت نے درج ذیل ہدایات دیں:
کمیٹی پولیس کی زیادتیوں اور مظاہرین کے تشدد، دونوں کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات کو ترجیح دے گی۔ کمیٹی پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں مظاہرین کو پہنچنے والی سنگین چوٹوں کی بھی تحقیقات کرے گی۔ احتجاج کے سی سی ٹی وی، ڈرون، باڈی کیم اور پی سی آر کال ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جائے۔ حراست میں لیے گئے نابالغوں کو رہا کیا جائے، سوائے ان کے جن پر سنگین اور گھناؤنے الزامات عائد ہیں۔ مظاہرین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی ہدایت، اسے عوامی کرنے پر پابندی۔ کمیٹی کی تحقیقات کے نتائج سے الگ پولیس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہو سکتی ہے۔









