نئی دہلی 20اگست:’’ہندوستان میں اس وقت اصل نظریاتی جنگ اس بات کو لے کر ہے کہ کیا ملک کے 1.5 ارب لوگوں کی سچائی کا فیصلہ کوئی ایک گروپ کرے گا؟ یا ہر شخص کو اپنی زندگی، اپنے تجربات اور اپنی سچائی خود سمجھنے کا حق حاصل ہوگا۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے جمعرات کو ’جواہر بھون‘ میں منعقدہ پروگرام ’ہرا بھرا سوراج: راجیو گاندھی کے ویژن کو خراج‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے اس تقریب میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی پر سخت حملے کیے۔راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ملک کے نظام کو کنٹرول کرنے والے لوگوں کے ایک گروپ نے یہ مان لیا ہے کہ وہ ملک کے ہر شخص کی سچائی کو جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا کو ہر روز نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ’’اگر کوئی طالب علم میرے پاس آتا ہے تو میرا یقین ہے کہ وہ طالب علم اپنی سچائی کو مجھ سے کہیں بہتر جانتا ہے۔ میرا کام اسے سننا، اس کا احترام کرنا اور اسے سمجھنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں وہی سب کچھ جانتے ہیں، اور یہی وہ سیاسی لڑائی ہے جس کا ملک کو سامنا ہے۔راجیو گاندھی کے ویژن اور مہاتما گاندھی کے ’تصور سوراج‘ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’سوراج‘ کو اکثر انگریزی لفظ ’فریڈم‘ یعنی ’آزادی‘ سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن دونوں ایک نہیں ہیں۔ سوراج کا مطلب ’سو‘ (خود) پر ’راج‘ (حکومت)، یعنی خود پر حکمرانی ہے۔ یہ صرف ’آزادی‘ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کسی شخص کو آزادی دی جا سکتی ہے، لیکن کوئی کسی دوسرے شخص کو سوراج نہیں دے سکتا۔‘‘ ان کے مطابق خود کو گہرائی سے سمجھنا سوراج ہے اور دنیا کے ساتھ کسی فرد کا ذاتی تعلق بھی سوراج کا حصہ ہے۔